تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 11 of 736

تحدیث نعمت — Page 11

مجھے صحابہ کیلئے مخصوص کر دیا گیا تھا شریف فرما ہے۔اور تمام کو وعظ و نصیحت فرماتے رہے۔آپ کے چہرہ مبارک پر غم کے کوئی آثار نہ تھے۔اور نہ آپ کے کلام کے انداز سے یا آوانہ سے ظاہر ہوتا تھا کہ آپ اپنے فرزند ارجمند کے جنازے کے بعد اس کی تدفین پر دعاء کے انتظارہ میں تشریف فرما ہیں۔آپ کے کلام کا اندانہ بالکل یہی تھا جو روز مرہ کی مجلس میں ہوا کرتا تھا۔حضور علیہ السلام صبر جمیل کا کامل نمونہ تھے۔۔۔مسجد مبارک کی توسیع سے پہلے کا واقعہ ہے۔چند مہمان جن میں حضرت سید حامد شاہ صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور والد صاحب شامل تھے، مسجد مبارک میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے خاکسار بھی کھانے ہیں شامل تھا۔میری نشست اس دروازے کے عین سامنے تھی جس سے حضور اپنے مرکان سے مسجد میں داخل ہوا کرتے تھے۔دروازے کی زنجیر مسجد کی طرف سے لگی ہوئی تھی حضور کے مکان کی طرف سے دروازہ کھٹکھٹایا گیا تومیں نے زنجیر کھولدی۔دروازہ کھلنے پر دیکھا کہ حضور دست مبارک میں ایک طشتری لئے کھڑے ہیں جس میں گوشت کی بریان ران رکھی ہوئی ہے۔حضور نے السلام و علیکم فرما کر شتری خاکابر کو دیدی اور تنور واپس تشریف لے گئے۔حضور کی مشفقانہ مہمان نوازی اور خدام پروری اور اس بریاں گوشت کی لذت زائد انہ ساٹھ سال کے بعد بھی خاکسانہ کی یادمیں ایسی ہی تازہ ہیں کہ گویا یہ کل کا واقعہ ہے۔حضور کا لباس سادہ ہوا کرتا تھا۔عمامے کے اندر حضور گرم رومی ٹوپی پہنتے تھے۔کرتا جو عموما کمل کا ہوتا تھا صدری اور لمبا کوٹ اور ملکی تنگ موری کی شلوار گرم موسم میں بھی صدری اور کوٹ عموماً گرم کپڑے کے ہوا کرتے تھے۔جب حضور باہر تشریف لیجاتے تو ہاتھ میں چھڑی رکھتے تھے۔ایک دفعہ ستمبر کے مہینہ میں خاکسا نے دیکھا کہ دوپہر کے وقت کھانے کے بعد اور ظہر سے پہلے حضور صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب والے مکان کے دروازے سے جو مستقف گلی میں کھلنا تھا یا ہر تشریف لائے اور گلی میں سے ہو کر اس زیر تعمیر مکان کے ضمن میں تشریف لے گئے جس میں بعد میں سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ کی رہائش رہی۔اس وقت معمار اور مردود کھانے کیلئے گئے ہوئے تھے اور کام بند تھا۔حضور تھوڑی دیر تک عمارت کو دیکھتے رہے اور پھر اسی راستے واپ تشریف لے گئے۔خاکسار نے حضور کو گلی میں تشریف لاتے وقت سے لیکر واپس تشریف لیجاتے وقت تک دیکھا۔حضور اس وقت صرف رومی ٹوپی پہنے ہوئے تھے اور صدر ہی زیب تن تھی۔حضور نے کوٹ نہیں پہنا ہوا تھا۔دست مبارک میں چھڑی تھی۔خاکسار کچھ فاصلے پر حضور کے پچھے پیچھے رہا مخل نہیں ہوا۔حضور کے چھا مرز انظام الدین صاحب حضور کے سخت مخالف اور معاملہ تھے۔انہوں نے طرح طرح کی تحقیر اور ایذا دہی کو اپنا مسلک بنارکھا تھا۔حضور کا ایک الہام تھا ينقطع مِن احبائك وبيد منك۔ان کا ایک بچہ بیمار ہوا اور بیماری زور پکڑ گئی۔حضرت مولوی نور الدین صاحب معالج تھے۔حضور جب مجلد مبارک