تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 270 of 736

تحدیث نعمت — Page 270

سے واقف نہ ہو۔وہ سرونش آن انڈیا سوسائٹی کے روح رواں تھے اور اپریل لیجسلیٹو کونسل کے مان کن رہے تھے۔انگریزی زبان پر قدرت نام رکھتے تھے اپنے خیالات کو بڑے سادہ لیکن نہایت موثر الفاظ میں بیان کرنے کے عادی تھے۔ایک مرتبہ گور نہ منزلی کے سوال پر کہ جو بات آپنے پیش کی ہے اس کی تائید میں کیا دلیل ہے کمال سادگی سے فرمایا۔BECAUSE My Lord This is our COUNTRY AND WE WISH TO RULE IT میں نے ان کا شکر یہ ادا کیا انہوں نے پوچھا تم کدھر جارہے ہومیں نے عرض کیا پکا ڈلی کی طرف۔فرمایا میں بھی اد عربی جارہتا ہوں۔رٹز ہوٹل کے قریب بس ٹھہرتی ہے۔وہاں سے عبس پر سوار ہوں گا۔اگر اجازت دو تو تمہارے ساتھ پھلوں۔میں نے کہا یہ میرے لئے باعث فخر ہو گا۔وہ آہستہ چلتے تھے اور بعض دفعہ کمال شفقت سے میر بازو کا سہارالے لیتے تھے۔اس کے بعد یہ معمول ہوگیا کہ اجلاس بر خاست جوتے پر میں انکا منتظر رہتا اور ہم بینی ہوٹل تک اکٹھے جاتے۔ان کی ہر بات سادہ سنجیدہ اور پر حکمت ہوتی۔ایک موقعہ پر بری پارٹی کی طرف سے کانوش کے بعض اراکین کو ایوان پارلیمنٹ میں دعوت دیگئی۔میں بھی مدعو تھا میز بانوں کی طرف سے مسٹری ایڈ جاریہ نے خوش آمدید کی تقریہ کی اور مسٹرے استری نے مہمانوں کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔دونوں اصحاب نہایت فصیح البیان تھے اور انگریزی زبان میں قادر الکلام۔محبت بہت پر لطف رہی۔گول میز کانفرنس کے دوران فرقہ وارانہ کانفرنس کے دوران میں وزیر اعظم برطانیہ نے فرقہ وارانہ مال مسائل کے متعلق مفاہمت کی کوششیں کو سلجھانے کی خاطر پنجاب کے نمائندوں کو طلب کیا اور دو تین اجلاسوں میں کوشش کی کہ کوئی صورت مقاہمت کی پیدا ہو جائے لیکن کوئی نتیجہ مترتب نہ ہوا اس گفتگو کے دوران میں ہند ونمائیندگان نے سکھ نمائندگان کو پیش پیش رکھا جن کے مطالبات اتنے غیر متناسب تھے کہ وزیراعظم سارا وقت اپنی کے ساتھ الجھے رہے اور آخر اپنی کوشش ترک کرنے پر مجبور ہوگئے۔سکھ نمائندگان اور ان اپنی کے مطالبات کے متعلق انہوں نے فرمایا۔THESE DELIGHTFUL PEOPLE ARE QUITE WILLING TO BE CONTENT WITH THE MAXIMUM ہندو نمائندگان میں سے سر چمن لال سیلواڈ نے کانفرنس کے دوران میں اپنی طرف سے ایک بخونیہ فرقہ دارانہ سمجھوتے کی تیار کی اور اسے سنجی طور پر تمام نمائندگان کو بھیج دیا۔اس تجو یہ میں انہوں نے اس اصل پر نہ دہ دیا تھا کہ اکثریت کی کوشش ہونی چاہیئے کہ اقلیتوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیابی ہو اور اس مقصد کے حصوں کے لئے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ اقلیتوں کے جائز مطالبات پر ہمدردانہ غور کیا جائے۔مثلاً گرفته داران نمایندگی