تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 269 of 736

تحدیث نعمت — Page 269

19 ۲۶۹ جو لارڈ رونالڈینٹے کے نام سے بنگال کے گوربند رہ چکے تھے اور شہداء میں سرسیموئل پور کے فرسٹ وزیر بنار مقرر ہوئے۔میری کمیٹی کے چیئر مین مسٹر مینڈرسن تھے جو اسوقت وزیر خارجہ تھے اور بعد میں COMMISSION DI SARMAMENT کے چیرمین ہوئے۔برطانوی مدیرین، والیان ریاست اور سند دوستان بھر کےا نه موده کار صاحب تجر بہ سیاسی رنجاؤں کے اس اجتماع عظیم می میں ایک نو آموز طفل مکتب تالو کسی شماری نہ تھا۔ڈاکٹر شفاعت احمد خان صاحب نے میرا نام کمیٹیوں کی فہرست میں شام نہ کرنے میں میری نا تجربہ کار کا صیح اندازہ کیا تھا۔سکین جہاں پختہ کار صاحب تجربہ اصحاب مفید اور کارآمد تجاویز پیش کر سکتے تھےاور قیمتی مشورے دے سکتے تھے۔وہاں ایک کودک نادان کے لئے نئے نئے تجربات حاصل کرنے اپنی صدا گاہ کو وسعت دینے اور اہل دانش کے فہم وادراک سے فائدہ اٹھانے کے بہت سے مواقع تھے۔ہزمانی منی سر آغا خان صاحب متقبل کے قائد اعظم اور بانی پاکستان مسٹر جناح ، مولانا محمد علی صاحب دوسری اور تیری کا نفرنس کے دوران میں علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب ، میاں سر محمد شفیع صاحب ، سرسید سلطان احمد صاحب ، مولوی ابوالقاسم فضل الحق صاحب کی صحبت کا میسر آنا بھی میرے لئے غنیمت اور باعث فخر تھا۔ان کے علاوہ ہر نئی نسن نواب صاحب بھوپال ، نواب سر اکبر حیدری صاحب، سرمرزا اسمعیل صاحب جیسے حکمرانوں اور مدبروں کے سا تھا اگر تبادلہ خیال نہیں تو کم سے کم ان کے نتائج فکر سے آگاہی۔پھرسے پنجے بہادر سپروا در سر جے کار جیسے آزمودہ کالی قانون اور سیاست کے ماہرین کی کانفرنس میں شمولیت میرے جیسے مبتدی کے لئے ان سے کچھ سیکھنے کے نادر مواقع بتا کرے تے مسٹر سپنتا منی | میری سب سے پہلی حوصلہ افزائی بالکل غیر متوقع طور پر سر چنتا منی کی جانب سے ہوئی۔مسٹر نیتا منی کا اصل وطن غالباً مدراس تھا۔لیکن وہ بولی میں نہیں گئے تھے۔وہ نہایت آزمودہ کا راور بڑے بار سورن صحافی تھے ادر سیاست میں بہت آزاد خیال تھے۔میں نے کانفرنس میں کس مسلے پر اظہار خیال کیا۔انہوں نے کمال شفقت سے مجھے ایک پرندے پر پنسل سے لکھ کر بھیجا۔IN THIS GATHERING OF REACTIONARIES It is so RefresHING To Hear SomeONE SPEAK OUT WITH COURAGE سرسرینواس سانتری | ایک دو دن بعدا اجلاس بر خاست ہونے پر میں نے اپنے کوٹ ٹوٹی کی تلاش میں تھا کہ سر سر مینو اس ساستری نے نہایت انک رکے لہجے میں جس سے میں بہت مجبل موا محمد سے فرمایا۔WILL YOU FORGIVE ME IF I WERE TO SAY HOW MUCH I APPRECIATE YOUR VALUABLE CONTRIBUTIOns To OUR DISCUSSIONS جھے جیت ہوئی کہ ایسی عظیم المرتبت شخصیت کا اخلاق بھی کس قدر بلند ہے۔میں نے سر سرینواس شاستری کا اہم گرمی برسوں سے سنا ہوا تھا۔اور ہندوستان اور برطانیہ میں کون شخص تھا جو سیاست میں کچھ بھی دلچسپی رکھتا ہو اوران کے ہم گرامی 1 1