تحدیث نعمت — Page 268
۳۶۸ جہاں ایک فائدہ یہ بھی تا کہ اردگر گنی آبادی نہیں تھی اور فارغ اوقات میں کھلی ہوا میں چلنے پھرنے کے مواقع میسر آجاتے تھے وٹان بجلی کی ریل کا سٹیشن با لکل قریب تھا اسلئے آمد و رفت میں سہولت تھی۔ہرنائی کی سر آغاخان کی قیادت ملم اراکین کا نفرن کے لئے بیشمار فوائد کا موجب ہوئی، فجزاہ اللہ آپ کی با وقا اور قابل احترام شخصیت محتاج تعارف نہیں تھی۔کانفرنس کے تمام حلقوں میں آپ نہایت عزت کی نگہ سے دیکھیے جاتے تھے۔ارباب حکومت میں شاید ہی کوئی ہو جس کے ساتھ آپ کا ذاتی تعارف نہ ہو۔انگریزی محاورہ میں سب دروازے بغیر دستک کے آپ کے لئے کھل جاتے تھے۔ہفتے میں دوتین با اسلم اراکین آپ کی قیادت میں جمع ہو کہ کانفرنس کے پروگرام اور کاروائی کے متعلق مشورہ کرتے تھے۔یہ اجتماع اگر یہ فریمی ہوا کرتے تھے لیکن مسلم وند ی کمیتی کو قائم رکھے اورمسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسے میں تدابر سوچنے اور انہیں عمل میںلانے میں نہایت محمد تھے دوست اجتماع می گفتگو شر وع ہوجیسے پہلے ڈاکٹر شفاعت احمد خاں صاحب نے ایک ریٹر سامنے رکھ لیا اور فرمایا مجھے اجازت دیجئے کہ بحیثیت سیکہ ٹیڈی وند می پچھلے اجلاس کی کاروائی کی رپورٹ پڑھ کر سنادوں ، اس پر قائد اعظم مسٹر جنات نے در ترش لیہ میں فرمایا آپ کو سیکریٹری کس نے ترکی تھا۔ہم کوئی کر پورٹ سنتا نہیں چاہتے کسی رپورٹ کے مرتب کرنے کی اجازت دیکھتے ہیں۔رسمی افتتاح اور خوش آمدید کی تقریروں کے بعدسب پہلا فیصلہ جو پلی گول میز کانفرنس نے کیا وہ یہ تھا کہ یہ ما ی ہندوستان سے علم کی کوا و اقلیم کر لیا گیا۔اس فیصلے کے تھے میں یہ بھی مانوں نے کانفرنس کے اجلاسوں میں شرکت بند کردی اور بر ما کے آئینی متقبل پرغور کرنے کیلئے ایک برمیگول میز کانفرنس علیحدہ قائم کردی۔یہ مالکی دندان سے علیحدگی یکم اپریل سہ سے عمل میں آئی اور ہم جنوری مواد کو برا کی آزادی کا اعلان ہوا۔کانفرنس نے دوسرا اقدام ہ کیا کہ مختلف آئینی مائل پر غور کرنے کیلئے کمیاں تو نہ کی گئیں اسی دن کا نفرنس کے دنا نہ کے کمروں میں سے ایک ی سیم وند کا اجتماع اس غرض سے ہوا کا کمیونی مسلم وند کیطرف سےنمائندگی کیلئے اراکین نامزد کئے جائیں اس تباہی میں بھی ڈاکٹر شفاعت احمد خانصاحب نے سیکریٹری کے فرائض خود اپنے ذمے لے لئے۔میری نشست ڈاکٹر صاحب کے بالکل ساتھ تھی۔جو نام تجویہ تو اڈاکٹر صاحب متعلقہ کمیٹی کے عنوان کے نیچے اسے درج فرمالیتے۔میاں سر محمد شفیع صاحب کی تحریک ر میرا نام تین بیٹیوں کے لئے تجویز ہوالیکن ڈاکٹرا نے کہیں دور نہ فرمایا جب نامزدگی کی کاروائی ختم ہوگئی توتیاں ر محمد شفیع صادر نے ڈاکٹر ماہ سے فرمایا جس جس کیٹی کے لئے و جو نام تجویز ہونے میں رہ پڑھ کر سنا دیجئے۔جب ایمان ہے کیا میرا نام کی کیٹی کے لئے درج نہیں کیاگیا تو بڑے جوش سے ڈاکٹری سے فریای من تین میٹیوں کے نے ظفراللہ خاں کانام تجویز کی گی ہے ان کے لئے اس کا نام روت کرد ورنہ ہم تمہارا نام برای کسی می سے کاٹ دیں گے ڈاکٹر صاحب کو پارونا چار تعمیل کرنا پڑی۔جن کیٹوں میں مجھے نامزد کیا گی ان میں سے دو کے چیر مین لارڈز ٹیلنٹڈ تھے