تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 250 of 736

تحدیث نعمت — Page 250

۲۵۰ سے گاڑی روانہ ہوئی اور اندھیرا ہونا شروع ہوا تو خلیفہ صاحب کی طبیعت پر رقت غالب آنے لگی انہیں تو یہ استغفار کی طرف توجہ ہوئی پہلے آہستہ اور پھر بلند آواز سے اور جوش سے کہنا شروع کیا یا اللہ ! میں بہت عاجز انسان ہوں۔مجھ سے بہت گناہ سرزد ہوئے ہیں۔میں بہت کمزور ہوں۔اور پھر یہ پیشہ ہی ایسا ہے۔میں کیا کروں۔لا اله الا انت سبحانك انى كنت من الظالمین یہ آیت پڑھتے اور زور سے دو بہتر اپنے سر پہ مارتے اور پھر آہ دنہاری اور استغفار میں لگ جاتے۔اسی کیفیت میں ہم فضلکا پہنچے۔ان کے موکل پیشوائی کو آئے ہوئے تھے۔وہ انہیں اسٹیشن سے اپنے ساتھ لے گئے۔جیٹس ہیرین مختصر بحث پسند کرتے تھے۔میری ایک اپیل ان کے اجلاس میں تھی جس میں تین ملزمان میں سے ایک کو سات اور دور کو پانچ پانچ سال کی قید بامشقت کی سزا ہوئی تھی۔امر واقعہ کے اٹھارہ چشم دید گواہ استغاثہ کی طرف سے پیش ہوئے تھے ان کے بیانات میں کوئی تفاوت یا تضاد نہیں تھا۔اگر میں مروجہ طریقے کے مطابق ساری شہادت پڑھ کر سناتا تو ڈیڑھ دو گھنٹے اسی میں صرف ہوتھے اور مسٹر جیٹس پیرین جیسے نازک مزاج جج کی طبیعت پر بہت بوجھ ہوتا استغاثے کی کہانی کی تائید اٹھارہ بار سنکر ان کے دماغ میں یہ بات محکم ہو جاتی کہ تینوں ملزمان کا جرم ثابت ہے اور ان کی طرف سے کسی بحث پر غور کرنا ہے کا ر ہے۔میں نے مختصر اوا فعات بیان کئے اور کہا کہ اٹھارہ گواہ استغاثے کی ہانی کی تائید کرتے ہیں جن کے بیانات میں کوئی ایپ اختلاف نہیں جو آپ کی توجہ کے لائق ہو۔میری معروفت یہ ہیں۔ملزم نمبرا کو دوسرے ملزمان سے زیادہ سخت سزا اس بناء پر دیگئی ہے کہ لڑائی کے دوران میں وہ بھاگ کر گاؤں گیا اور کچھ اور لوگوں کو لڑائی میں شامل ہونے پر آمادہ کر کے لے آیا۔بیشک ایک گواہ نے ایسا کہا ہے لیکن ایک دوسرے گواہ نے بحرین میں تسلیم کیا ہے کہ یہ ملزم لڑائی کے دوران میں سارا وقت جائے وقوعہ پر موجود رہا۔ملاحظہ ہو ر یکارڈ کا صفحہ فلاں سطر فلاں میری گزارش ہے کہ اس کی سزا میں تخفیف ہونی چاہیے۔ملزم نمبر 1 کے متعلق میری گزارش ہے کہ اس کا چچا ملزمان کے مجھے کا سردار سمجھا جاتا ہے۔لیکن چھا بھتیجھے دونوں کا اس معاملے کے ساتھ کوئی تعلق بیان نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ لڑائی ہوئی۔باوجود اس کے نہ صرف بھتیجے کو زمرہ ملزمان میں شامل کر لیا گیا ہے بلکہ جھا کو بھی ملوث کرنے کی شوش کی گئی چھپا کا نام ریورسٹ ابتدائی میں زمرہ ملزمان میں شامل ہے لیکن جب بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تو اس دن ۲۰ - ۲۲ میل کے فاصلے پر سیشن جج کی عدالت میں مشہادت دینے کے لئے گیا ہو ا تھا تو گواہان نے عدالت میں اس کا نام نہیں لیا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ چھا کو ناحق شامل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ممکن ہے بھتیجے کو بھی اسی طرح شامل کیا گیا ہو۔اسلئے لازم ہے کہ شہادت استغاثہ کونہایت