تحدیث نعمت — Page 249
۲۴۹ بچنے کیلئے کوئی تدبیر کام نہیں آتی۔واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ایک دفعہ کا منہ کا اچھے کے قریب ایک گاؤں کا رہنے والا میر ایک موکل سردیوں کے موسم میں رات دس گیارہ بجے کے درمیان میرے پاس لاہور آیا اور کہا میں نے اپنے گاؤں سے باہر اپنے ایک تعریف کو قتل کر دیا ہے۔اور سیدھا تمہارے پاس آیا ہوں اب تم کوئی تدبیر کر لو۔میں نے کہا دلی دروازے جا کر ایک تو تل دیسی شراب کی خرید اور اتے ہی کو والی کے اسے کسی اگر نے کا ارادہ گالی گلوچ کرد کو تو الی والے تمہیں رات بھر کے لئے سوالات میں دیدیں گے۔ان کے دریافت کرنے پر اپنا نام بتہ صحیح لکھوا دنیا۔صبح ہونے پر تمہیں چھوڑ دیں گے تم سید ھے اپنے گاؤں لے جانا۔اگر تم پر قتل کا شک کیاگیا اور تمہیں گرفتارکیا گیا تو اپنے والد توں سے کہنا میرے پاس آجائیں۔اس نے ایسا ہی کیا۔جب اپنے گاؤں واپس پہنچا تو پولیس موجود تھی اور اس کی تلاش ہو رہی تھی اسے گرفتار کیا گیا۔مجسٹریٹ کی عدالت میں اس نے بیان دیا میں بیگناہ ہوں میں تو اس رات گاؤں میں ہی نہیں تھا۔مقتول کی نعش روشنی ہونے پر کھیت میں پائی گئی تھی۔رپورٹ میں درج تھا کہ صبح فجر سے قبل ابھی اندھیرا تھا کہ رپورٹ کنندہ کا گذر کھیت کے قریب سے ہوا اس نے مقتول اور ملزم کی آواز سنی کہ آپس میں گالی گلوچ ہو رہے ہیں اور ایک دوستے پر حملہ آور ہیں۔وہ جلدی سے آگے بڑھا اتنے میں مقتول زمین پر گر گیا تھا اور دوسرا شخص بھاگ گیا۔اس نے نیم اندھیرے میں مقتول کے جسم کو ٹول اور محسوس کیا ہ اسے سانس نہیں آتا۔روشنی ہونے پر معلوم ہوا مر چکا ہے۔وہ گاؤں گیا اور نمبردار کو اطلاع دی۔نمبردار نے کہا تھانے جا کہ رپٹ درج کراؤ۔مجبریٹ نے مقدم سیشن کی عدالت میں بھیج دیا۔سیشن میں ملزم نے بیان دیا میں اس رات گاؤں میں نہیں تھا۔اس شام مجھے لاہور میں خلال کام تھا اس کی خاطرمیں لاہور گیا کام ختم کرنے کے بعد میری ایک را نگیر سے تکرار ہوگئی۔کوتوالی قریب تھی کو توالی والوں نے مجھے حوالات میں دیدیا۔رات بھر سوالات میں رکھا صبح رہا کمرہ دیا میں سیدھا گاؤں آگیا۔وہاں پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد پولیس نے مجھے گرفتانہ کر لیا۔مجھے قتل کے واقعہ کا کوئی علم نہیں۔صفائی میں کو توالی کار تیبا در محر طلب کئے گئے ان کی شہادت سے ملزم کے بیان کی تصدیق ہوئی ملایم مہدی ہو کہ رہا ہوا۔رہائی ہونے پہ گاؤں واپس گیلا ایک ہفتے کے اندر پلیگ کا حملہ ہوا۔چار دن بعد مرگیا۔خلیہ کومت رائے صاحب سے معلوم ہوا کہ وہ تین بھائی ہیں ان کے والد صاحب علم دوست تھے اور قرآن کریم کا بہت احترام کرتے تھے۔تینوں بیٹوں کو انہوں نے قرآن کریم سبقاً پڑھایا تھا۔خلیفہ صاحب نے مجھے کہا میں تمہارا احترام اس لئے کرتا ہوں کہ تم علم دوست ہو اور قرآن کریم جانتے ہو۔ایک دن میں اور خلیفہ صاحب ایک قتل کے مقدمے کی پیروی کے سلسلے میں لاہور سے فاضل کا جا ر ہے تھے ، ماتھے کا علاقہ تھا میں سٹیشن پر گاڑی ٹھہرتی خلیفہ صاحب در دانے میں کھڑے ہو جاتے برائٹیشن پر اپنے تین چار موکلوں کے ساتھ ان کی صاحب سلامت ہو تی فیروز پور سنچتے تک شام ہو ئی ہم نے گاڑی بعد لی اس واقعے میں خلیفہ صاحب ریفرشمنٹ روم میں جا کر اپنی تفریح کا سامان کر آئے۔جب فیروٹ یہ