تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 239 of 736

تحدیث نعمت — Page 239

۳۳۹ کے اوائل میں لاہور ہائی کورٹ میں عارضی حج کی ایک جگہ خالی ہونے والی تھی سر شادی لال صاحب (چیف جٹس) نے اس کے لئے بخشی ٹیک چند صاحب کا نام گورنہ صاحب (سر میلکم ہیلی کو بھیج دیا گورنہ صاحب نے لکھا کہ ایک اسامی کے لئے صرف ایک نام بھیجنے سے یہ مراد ہو سکتی ہے کہ تقریر کا اختیار گورنر یا گور نہ منزل کو نہیں بلکہ چیف جسٹس کو ہے۔مناسب ہوگا کہ کم سے کم ایک نام اور بھیجا جائے۔چیف جسٹس صاحب نے دوسرا نام رائے بہادر جے لال قلاب ا بھی دیا اور ان کا تقر خالی اسامی پہ ہوگیا۔چیف جبس صاحب اور بخشی صاب کو وقتی طور پر زک پہنچی۔اسی سال انتخابات ہوئے اور بخشی صاحب کو نسل کے رکن منتخب ہو گئے۔وزراء کے تقریر میں گورنہ صاحب کو مشکل کا سامنا ہوا۔سر میلکم ہیلی کی طبیعت اقتدار پسند تھی وہ ایسے وزراء کے متلاشی تھے جواپنی مرضی پر اصرار کرنے کی بجائے ان کے مشورے پر عمل کرنے والے ہوں۔انہوں نے ایک ترکیب تو یہ سوچ کہ کونل کی تین بڑی پارٹیوں میں سے ایک ایک وزیر بنا جائے اور اس طرح یونینسٹ پارٹی کو کمزور کیا جائے۔اس ترکیب کے رستے میں یہ مشکل پیدا ہوگئی کہ نبخشی صاحب کی موجودگی میں بندوں میں سے کوئی اور رکن وزارت قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔اور اگر کوئی نیا نہ ہو بھی جاتا تو باقی ہند داراکین اس کے خلاف ہو جاتے اور یہ بات وزارت کے لئے کمزوری کا باعث ہوتی اگر بخشی صاحب کو وزیر مقرر کیا جاتا تو ان کی نہ یہ دوست شخصیت گورنہ صاحب کے ہر مشورے کو قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہوتی۔اس مشکل کا حل گورنہ صاحب کو بھی نظر آیا کہ چارونا چار بخشی صاحب کو ٹائی کورٹ کی بھی پیش کی جائے اتفاق سے ایک حج ریٹائر ہونے والے تھے۔اور اس سلسلے میں ایک عارضی اسامی خالی ہونے والی تھی۔چنانچہ آنر دسمبر میں بخشی صاحب کو یہ اسامی پیش کی گئی و بخشی صاحب ان دنوں کرسمس کی تعطیلات میں اپنے وطن نور پور ضلع کانگڑہ میں تشریف فرما تھے۔وہاں ان کے نام دستی پیغام بھیجاگیا اور فوری جواب کی خواہش ظاہر کی گئی۔انہوں نے جواب بھیجا کہ ہم تعطیلات کے بعد لاہور آنے پر جواب دیں گے۔تعطیلات کے بعد لاہور پہنچ کیا انہوں نے چیف جسٹس صاحب سے مشورہ کیا اور گورنہ صاحب کو جواب دیا کہ ہمیں بھی کی کوئی ایسی خواہش نہیں اور عارضی اسامی قبول کرنے کیلئے تو ہم کسی صورت نیاہ نہیں۔اگر منتقل اسامی جو خالی ہونے والی ہے اس پر تنقیہ کی بخونیہ ہو تو یم اس پر غور کرنے کے لئے تیا نہ ہیں۔چنانچہ مستقل اسامی پن بجائے سنیٹر عار منی حج کا تقرر ہونے کے بخشی صاحب کا تقرر ہوا اور بخشی صاحب پہلے دن سے ہائی کورٹ کے مستقل بج ہو گئے اور چابہ عامر منی جوں سے بہن میں جھے ہاں صاحب بھی شامل تھے سینڈ ہو گئے۔چیف جسٹس صاحب اور بخشی صاحب کی عار منی زک چند مہینوں کے اندری فتح سے بدل گئی اور نیک آخر کار گورتر صاحب ہی کو ہوئی۔بخشی صاحب نے کونسل کے پہلے اجلاس میں صرف رکنیت کا حلف اٹھایا اور پھر چند دنوں کے اندر ہی ہائی کورٹ کی تھی کی کرسی پر رونق افروزہ ہو گئے۔قریب میں سال اس کرسی پر متمکن رہے اور ان میں سالوں کا ہر لحظہ مہد و افراد اور ہندو قوم کو تقویت دینے اور مسلمانوں کو