تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 234 of 736

تحدیث نعمت — Page 234

17 کم ۲۳ " کمیٹی اور مدار اس کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا تھا۔اگر اس کے بعد بھی وہی عالمات جاری ہے تو نہ تھی کے راستے کھلنے پر غیر مسلم عناصر کا قدم تر قی کی شاہراہ پر سلمانوں کے مقابلے میں تیز سے تیز تہ ہوتا جاتا اور ہرسال سلمانوں کی نسبتی حالت گرتی چلی جاتی۔قیاس غالب ہے کہ ان نقادوں اور مورخین میں سے اکثر کو کا لج میں داخلہ بھی نصیب نہ ہو سکتا۔پنجاب کا درجہ بجائے دو سے صوبوں کے مقابل میں تدریج بلند ہونے کے تدریج گرتا چلا جاتا۔میاں سر فضل حسین صاحب کی مساعی کے نتیجے میں تمام سرکاری اعلی تعلیمی درسگاہوں میں مسلمان طلباء کے لئے کم سے کم ہم فیصدی نشستیں محفوظ ہوئیں۔صوبہ بھر میں سکولوں اور کالجوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔صوبہ بھر ی تعلیم کا معیار ، کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے بلند ہونا شروع ہوا۔ابتدائی تعلیم کے لحاظ سے پنجاب نے اول بڑے صوبوں کی ہمسری کی طرف قدم بڑھانا شروع کیا اور جلد ہی انہیں پچھے چھوڑ دیا۔صحت اور طبی محکموں اور اداروں میں چستی پیدا ہوئی شہروں اور دیہات میں شفا خانوں اور ڈسپنسریوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہونے لگا۔صوبے کی زندگی کے ہر شعبے کی نبض نیز سہلنے لگی۔میاں سر فضل حسین صابو بینی اور دور اندیشی کے اوصاف سے متصف تھے جن نذیر سے کام لیتے تھے ، دردمند دل لہ کھتے تھے، نفرت کو بھی العام سمجھتے تھے، دوسروں سے کام لینے کا ڈھب انہیں آتا تھا۔بایں ہمہ وہ ایک انسان تھے اور اتنا ہی کر سکتے تھے جتنا ایک انسان سے ہو سکتا ہے۔ان کی قیادت میں بیشما را صحاب نے علی قدیر مراتب ملک اور قوم کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور مخلصانہ تعاون کے ذریعے ان منصوبوں کو کمیل تک پہنچایا اور وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاں اجرہ کے مستحق ٹھہرے۔بہ تا شاہ کے دور میں میاں سر فضل حسین کی یونینسٹ پارٹی بہت کار آمد اور کارگر ثابت ہوئی۔ترقی کے منصوبوں کے لئے روپیہ کی ضرورت تھی۔اس پارٹی نے اراضیات پر شرح محاصل کی انزادی کی تائید میں رائے دیکھ روپیہ فرائم کرنے کا سامان کیا۔یہ کسی پر احسان نہیں تھا۔پارٹی کے اراکین جانتے تھے کہ یہ روپیہ بلا واسطہ ان کی بیہوری والے منصوبوں پر خرچ ہو گا۔ار سے عوام تک میاں صاحب وائسرائے کی مجلس عاملہ کے رکن رہے۔جب لالہ ڈارون ) ۱۹۳۰ جو بعد میں اپنے والد کی وفات پر لارڈ سہیلی فیکس ہوئے ، وائسرائے ہند نے میاں صاحب کو سر حبیب اللہ صاحب کی جگہ وائی رائے کی مجلس عاملہ میں شامل ہونے کی دعوت دی اور میاں صاحب نے میرے ساتھ اس کھ کا ذکر کیا تو میں نے عرض کیا کہ وائسرائے ہند کی دعوت قبول کرنا تو ناگزیر ہے۔لیکن پھر صوبے میں ایک غلا پیدا ہو جائے گا۔آپ نے فرمایا جب وائسرائے نے میرے ساتھ نہ بانی ذکر کیا تو میں نے تامل کا اظہارہ کیا **