تحدیث نعمت — Page 224
کم ۳۲ قبر کی زیارت کی جب ہماری کار محلہ خان یار کے چوک میں جا کر کھڑی ہوئی تو محمد کے چند نوجوان ہمارے گرد جمع ہوگئے ان کے چہروں کے نقش بالکل اسرائیلیوں کے تھے۔بارہ سال بعد جب مجھے دارسے جانے کا اتفاق ہوا تو سہوری محلے میں میں نے بالکل ویسے ہی چہرے دیکھے جو محلہ خان یا سری نگر میں دیکھے تھے۔وادی کشمیر کے پہاڑہ اور چشمے سبزہ زار اور باغات، لطیف ہوائیں اور شیری پانی دل کو موہ لینے والے ہیں۔کشمیر کا سحر دل پر آہستہ آہستہ تسلط جان ہے لیکن اسے ہمیشہ کیلے اپنا نا نیا ہے۔ہمارا واپسی کا سفر بانہاں کے راستے ہو اس میرے سر پر کاروان ہو کر اور بانہال کی چوٹی سے گزارہ کر رات ہم نے بانہال کے بنگلے میں گزاری یہ سڑک کوہ مری اور بارہ مولے والی سٹرک سے نسبتا شوالہ گزار ہے لیکن منتظر کے لحاظ سے بہت زیادہ دلکش ہے۔ویری ناگ کا چشمہ بہت ہی پر فضا منظر پیش کرتا ہے۔د و سبق آموز تجربات | اسی سال اور پھر ایک سال بعد مجھے ہائی کورٹ میں دوا ایسے تجربات ہوئے جن سے میرا یہ یقین محکم سے محکم نہ ہوگیا کہ گو رعایت اسباب تو تبشیک لازم ہے لیکن عاقبتہ الامور اللہ تعالی ہی کے ہاتھ میں ہے۔ایک باپ اور بیٹے کو قتل کے جرم میں سیشن کی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی باپ نے افزایہ جرم کر لیا تھا بیٹے کی طرف سے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی اس کی طرف سے میں وکیل تھا۔تاریخے سماعت پر چیف جسٹس سرشاری فعل اور ان کے رفیق حج کے اجلاس میں اپیل کا پہلا نمبر تھا۔جن وکیل صاحب کا کیس دوسرے نمبر پر تھا انہوں نے اجلاس شروع ہونے سے قبل مجھ سے دریافت کیا تمہارا کیں اندازہ اتنا وقت لیگا۔میں نے کہا قریباً آدھ گھنٹہ۔پوچھا کیا ایسا ہی مختصر کہیں ہے ؟ میں نے کہا واقعہ قتل کا ایک ہی چشم دید گواہ ہے۔چیف جسٹس صاحب اڑ جائیں گے کہ اس کی شہادت کو رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں اس پر اپیل نا منظور ہو جائیگی اتنے میں بیج صاحبان تشریف لے آئے۔لیکن چیف جسٹس صاحب کی جگہ مسٹرلی یا سینیل صاحب اجلاس میں شریک ہوئے۔وجہ یہ معلوم ہوئی کہ چیف جسٹس صاحب مہارا سید ہری سنگھ کی تاجپوشی کی تقریب میں شمولیت کے لئے مجھوں تشریف لے گئے ہیں۔میں نے دوسرے وکیل صاحب کے کان میں کہا میرا کیس تواب بھی آدھے گھنٹے میں ہی ختم ہو جائے گا لیکن اب بفضل اللہ اپیل منظور ہو جائے گی اور سال رہا ہو جائیگا۔اس کیس میں مقتولین میاں بیوی تھے۔ان کی شادی کو چند دن ہی گذرے تھے۔گرمیوں کا موسم تھا۔جیسے کئی دیہات میں ہوتا ہے ان کی جائے سکونت ایک احاطے کے اندر تھی۔احاطہ میں چاروں طرف رہائشی کو ٹھے تھے اور درمیان میں وسیع مشتر کہ صحن تھا۔اس صحن میں احاطے کے اندر رہنے والوں کی چار پائیاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بھی نھیں۔یہ میاں بیوی ایک ہی چار پائی پر ایک درخت کے نیچے سو رہے تھے۔ان کی چار پائی سے کچھ فاصلے پر شوہر کی ماں اپنی چار پائی پر سورہی تھی۔رات کی کے اندھیرے میں پچھلے پر کسی شخص نے تیز دھانہ دار آلے کے ساتھ میاں بیوی کو شدید ضربات پہنچائیں تین سے وہ جانبر نہ ہوسکے۔ان کے دہائی دینے سے شوہر کی ماں اور دوسرے لوگ بھی جاگ اٹھے۔پولیس کے آنے پر ماں نے بیان کیا