تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 209 of 736

تحدیث نعمت — Page 209

دم تک قائم رہا کبھی بھولے سے بھی ہمارے درمیان یہ بخش چھوڑے غلط نبی بھی پیدا نہ ہوئی۔وہ عمر میں مجھ سے دو تین سال بڑے تھے۔لیکن ان کا سلوک میرے ساتھ ہمیشہ بڑے بھائی کی شفقت کے ساتھ ساتھ چھوٹے بھائی کے • احترام اور اطاعت کا نمونہ رہا۔یہ سب انکی صفائی قلب اور اعلیٰ خلق کا تقاضا تھا۔میری کسی خوبی کا اس میں دخل نہ تھا ان کی وفات پر تیس سال سے زائد عرصہ گذر چکا ہے لیکن ان کی یاد میرے دل میں ہر لحظہ تازہ ہے اور قبیل اللہ کوئی دن نہیں گذرے تا کہ اس میں میری طرف سے ان کے لئے دعائے مغفرت میں ناغہ یا کوتاہی ہو وہ بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔لیکن عجز انکار، تواضع اور حیا ان کے خاص ہو سر تھے۔اعلیٰ درجے کے ادیب اور انشا پردا نہ تھے ان کے مضامین کا مجموعہ تخیلات بلند پایہ اور مایہ نانداد یہوں سے خراج تحسین حاصل کر چکا ہے۔١٩٢٣ء مرکزی اسمبلی کی رکنیت کیلئے انتخاب میں حصہ لینا | ارء میں پنجاب کونس کا دوسرا انتخاب ہوا۔مجھے کونسل میں جانے کا کوئی ایسا شوق نہیں تھا۔چودھری شہاب الدین صاحب نشد میں مرکزی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور اب وہ چاہتے تھے کہ پنجاب کونسل میں آجائیں۔ان کا اصل وطن بھی ضلع سیالکوٹ میں تھا۔انہوں نے مجھ سے اس خواہش کا ذکر کیا اور کہا کہ ہ سیالکوٹ سے منتخب ہونا چاہتے ہیں بشرطیکہ میں اس حلقے سے کھڑانہ ہونا چاہو میں نے ان سے کہہ دیا کہ مجھے تو کوئی شوق نہیں لیکن اگر حضرت خلیفہ المسیح نے ارشاد فرمایا تو مجھ پر تعمیل واجب ہوگی۔جناب چودھری صاحب نے حضرت صاحب کی خدمت میں تحر یہ گذارش کی کہ انہیں سیالکوٹ سے کھڑے ہونے کی اجازت دی جائے۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ چونکہ ظفر اللہ خان کے کھڑے ہونے کے متعلق کہ مضامندی دے چکا ہے اسلئے ہم بھی رضا مند ہیں لیکن یہ رضامندی صرف اس انتخاب کے متعلق ہے آئندہ انتخابات پر اس کا اثر نہ ہو گا۔خاک کے متعلق حضور نے فرمایا کہ یہ پبلک ذمہ داری کے کاموں سے گھبراتا ہے اسے ان امور کی عادت ڈالنے کے لئے ہدایت دی جائے کہ اختیار کیا ہور، امرتی ، گورداسپور، فیروز پور کے حلقے سے مرکز ی اسمبلی کی رکنیت کے لئے کھڑا ہو۔اس حلقے سے تین امیدوار تھے۔حلقے میں شہر اور دبیات دونوں شامل تھے اور شہری رائے دہندگان کی بھاری کثرت تھی۔شیخ صادق حسن صاحب امرتہ سے امیدوار تھے شہر امرتہ میں علاوہ ان کے خاندانی اور کا ردباری رسوخ کے ان کی کشمیری برادری کے بہت سے روٹ تھے۔اور شہر ی مہور میں بھی یہی صورت بھی یوں بھی قیاس میں تھا کہ دہ کامیاب ہو جاتے لیکن ساتھ ہی انہوں نے علمائے کرام سے فتویٰ پر دستخط حاصل کر کے بڑے بڑے اشتہار شہروں اور قصبوں کی دیواروں پر جابجا چسپاں کرا دیئے کہ ظفر اللہ خان کو ووٹ دنیا نا جائز ہے کیونکہ دہ قادیانی ہونے کی وجہ سے کافر ہے۔قواعد انتخاب کے لحاظ سے یہ کاروائی نا جائمہ اور انتخاب کو باطل کرنے والی تھی شیخ صادق حسن صاحب انتخاب میں کامیاب ہو گئے۔میں دوسرے نمبر پر آیا باقی دونوں امیدوار میرے اور چو تھے نمبر پر آئے۔شیخ صاحب کی حمایت میں نشر کردہ اشتہاروں نے ایک اصولی سوال کھڑا کر دیا تھا جس کے عمل