تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 208 of 736

تحدیث نعمت — Page 208

۲۰۸ اور احترام خود دعا کے لئے عرض کرنے کی بجائے مجھ سے کہا کہ تم عرض کردو۔میں نے ان کی موجودگی میں گذارش کی اور حضور نے کمالی شفقت کے لہجے میں فرمایا دعا کریں گے۔تاریخ مقررہ پر سید فضل علی صاحب شملہ گئے۔واپسی یہ بتایا مٹر کنگ نے ابتدائی رسمی گفتگو کے بعد فرمایا افسوس ہے انسپکٹر کی اسامیاں تو پچہ ہو چکی ہیں۔مجھے حیرت ہوئی کہ اگر مرن میں بتانا تھا تو مجھے شملہ جانے کی کیا ضرورت تھی۔مجھے زحمت بھی ہوئی اور اخیرا جات کی زیہ باری بھی ہوئی۔پھر بھی میں نے سیم تشکر بیٹے کے الفاظ کے ساتھ رخصت طلب کی اس پر مسٹر گنگ مسکرائے اور کیا انسپکٹر کی اسامیاں تو پتہ ہو چکی ہیں لیکن کلکٹر کی اسامیوں میں ابھی گنجائش ہے اگر تمہیں منظور ہو تو اس پہ تمہارا تقریر کر دیا جائے۔(بعد میں اس عہدے کا نام بدل کر انکم یکی افیسر کر دیا گیا، چنانچہ سید فضل علی صاحب کا تقری بطور انکم ٹیکس کلکڑ ہو گیا اور ر ہتک میں تعیناتی ہوئی۔اس کے جلد بعد مجھے ایک مقدمے کی پیروی کے سلسلے میں رتیک جانے کا اتفاق ہوا۔میر قیام انہیں کے ہاں تھا۔مغرب سے پہلے ہم دونوں سیر کو نکلے تو میں نے دیکھا ن کا الہ دلی ہمارے پیچھے پیچھے آتا ہے۔میں نے سید صاحب سے کہا واپس چلیں کہنے لگے کیوں کیا بات ہوئی میں نے کہا آپ کی کٹڑی ہماری نگرانی کر رہی ہے اور میں فضل علی کی رفاقت چاہتا ہوں نکم ٹیکس ٹکڑے مجھے سر کا نہیں۔کہنے لگے یہ خود ہی میرے پیچھے چلا آتا ہے میں اسے منع نہیں کرتا کہ اسکی دل شکنی نہ جواب اسے کہ دیتا ہوں تم میرے ساتھ ہواسکی ضرورت نہیں! میں نے دریافت کیا کام کیسے میں رہا ہے ؟ کہنے لگے میں قانون تو جانتا نہیں اور مجھے وکلاء کی حیث سنکر مفصلہ کرنا ہوتا ہے۔ابھی تو یہ حالت ہے کہ ایک وکیل بحث کرتا ہے تو میں سمجھتا ہوں یہ ٹھیک کہتا ہے دوسرا اس کا جواب دیتا ہے تو خیال کرتا ہوں یہ ٹھیک کہتا ہے بحث کے آخر میں میری طبیعت کا نہ جان آخری تقریم کرنے والے کے حق میں ہوتا ہے ! میں نے کہا تھوڑے سے بجتیے کے بعد وکیلوں کا رعب جاتا رہے گا۔کہنے لگے وکلاء کی بحث سے اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ مجھے اطمینان ہو جاتا ہے کہ دونوں طرف سے جو کچھ کہا جا سکتا ہے بن لیا ہے۔جب وکیل نہیں ہوتے تو مشکل بڑھ جاتی ہے۔سائل دکھائی دیتا ہے۔حضور کے بیوی بچے بھوکے مر جائیں گے۔حضور کے بیوی بچوں کے تن ڈھانپنے کو کپڑا نہیں رہے گا۔پہلے تومیں خیال کرتا تھا مجھے بد دعائیں دیتے ہیں پھر میں سمجھا کہ عجز اور انکساری کے طور پر اپنے بیوی بچوں کو میرے بیوی بچے کہ کہ تو جہ دلاتے ہیں کہ اگر ٹیکس میں تخفیف نہ ہوئی تو ان کا برا حال ہوگا۔سید افضل علی صاحب نے اپنے محکمے میں دیانت قابلیت اور فرض شناسی کا بہت اعلیٰ معیار قائم کیا اور بہت نیک نام افسر ثابت ہوئے۔سچندسالوں کی خدمت کے بعد اسسٹنٹ کمتر ہو گئے اور اگر عمر ونا کرتی تو یقین ملازمت کی میعاد پوری کرنے سے پہلے کمشنر ہوتے لیکن قضا نے مہلت نہ دی اور آج سے زائد از تئیس سال قبل داعی اجل کو لبیک کہا۔یغفر الله له ويجعل الله الجنة العلياء مثواه - ہمارے درمیان اوائل ایام طفولیت میں دوستی کا رشتہ قائم ہوا اور ان کے آخری