تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 203 of 736

تحدیث نعمت — Page 203

ال دائر کر دیں تو اسکی سماعت کچھ ہفتوں تک ہو جائے گی۔حکومت کے اپیل دائر کرنے کی میعاد کچھ ماہ ہے۔سرکاری وکیل صاحب اپنی رائے ڈپٹی کمشنر صاحب کو بھیجیں گے اگر وہ اتفاق کریں گے تو وہ کاغذات کمشنر صاحب کو بھیجیں گے اگر انہیں اتفاق ہوا تو وہ لیگل ریمیر لیسر کو بھیجیں گے اور وہ گورنمنٹ ایڈوکیٹ کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد طے کریں گے کہ اپیل دائر کی جائے یا نہ اس تمام کار وائی کی تکمیل سے کہیں پہلے ہماری اپیل کا فیصلہ ہو جائے گا۔چنانچہ اسی مشورہ کے مطابق اپیل دائر کر دی گئی۔سیشن بی صاحب کا فیصلہ پڑھنے سے مجھے اور اطمینان ہوگیا کہ بفضل الله اپیل منظور ہو گی۔انہوں نے اپنے فیصلے میں مجمل طورپر تجویز کیا تھا کہ ان دو ملزمان نے حق خود حفاظتی کی حدود سے تجاونہ کیا ہے اور یہ تجو یہ انہیں مجرم قرار دینے کے لئے کافی نہیں تھی۔اگر چند اشخاص میں سے بعض خود حفاظتی کی حدود سے تجا نہ کریں توان میں سے کسی کو مجرم قرار دینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ نجی یہ تجویز کیسے کہ علال ضرب با ضربات حد سے نجادو تھیں۔اور وہ خاص ضرب یا ضربات فلاں ملزم نے رسید کیں اگر شہادت سے یہ ثابت نہ ہو سکے تو کسی ملزم کہ جرم عاید نہیں کیا جاسکتا۔اپیل کی سماعت کے دوران میں میں نے میں عذر پیش کیا اور اس کی بنا پر دونوں اپیلانٹ بھی یہ کی کئے گئے۔اور حکومت کی اپیل کی گنجائش نہ رہی۔مجھے اپنی پر کمیٹی کے دوران میں 14 سولہ سیشن کیس کرنے کا موقعہ ہوا ان میں سے فضل اللہ خوردہ ہیں پوری کامیابی ہوئی۔ایک میں سولہ ملزمان میں سے تیر کا سیری ہوئے ایک کو پھانسی کی سندا ہو ئی محدود کو عمر قید کی۔دوسرے میں ملبہ مان کو عمر قید کی سزا ہوئی۔خان بہادر عبد الغفور پیچاں صاحب ] بن حج صاحبان کی عدالت میں میں سیشن میں پیش مان آن زیده میشن حج ہوا ان میں سے دوا اپنے اپنے رنگ میں بہت ممتاز تھے۔ان میں سے ایک خان بہادر خان عبد الغفور خاں صاحب خان آن زیدہ تھے۔ان کی عدالت میں گوہ کام بڑی تیزی سے نہیں ہوتا تھا لیکن نہایت احتیاط سے ہوتا تھا۔اور ملزمان اور ان کے وکلاء کو کوئی موقع شکایت کا نہیں ہوتا تھا۔بارہ ثبوت نہ صرف قانوناً بلکہ عملاً استفاقے پر رہتا۔ملزم کو ہر سہولت مسیر آتی اور معقول شک کا فائدہ ملتا۔بیج صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بہت زہیر ک دماغ عطا فرمایا تھا۔اور امیرانہ مخلق بخش تھا۔اگر چہ ان کا رعب بھی بہت تھا لیکن وکلاء اپنے فرض کی ادائیگی میں پوپر ہی آمنہ ادی محسوس کرتے تھے اور حج صاحب کے مزاج میں کبھی تیزی نہ آنے پاتی تھی۔ان کے روبرو میرے پہلے کہیں میں دو ملزم تھے سردارا اور خوشیا۔پہلے کی طرف سے میں وکیل تھا دور سیسے کی طرف سے میرے مشورے سے میرے شاگردہ اور دوست لالہ پر تاب چند پوری کو وکیل کیا گیا تھا۔سرکاری وکیل شیخ عطاء محمد صاحب یہ گیا بر اور اکبر شیخ دین محمد صاحب حج ہائی کورٹ تھے۔عدالت کا اعلاس گجرات میں تھا۔میں نے کاغذات **