تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 191 of 736

تحدیث نعمت — Page 191

141 متعلق ہر طرح سے اطمینان ہے میری رپورٹ پر سٹرالی کو تیھ انڈین کیز کے عملے کے منتقل رکھی ہو گئے اور ایڈیٹری کے کام میں میرے منہایت قابل قدر معادن ثابت ہوئے۔بہت جلد ہمارے تعلقات گہرے دوستانہ ہو گئے۔میں ان کا نہایت ممنون تھا۔اگر مجھے سے کسی قسم کی اعانت طلب کرتے تو مجھے دریغ نہ ہوتا۔صرف ایک بار کسی ضرورت پر کچھ قرض طلب کیا۔پھوٹی سی رقم تھی کا میں نے فوراً پیش کردی۔انہوں نے کبھی دوبارہ ایسا مطالبہ نہ کیا اورمیں نے ان سے کبھی یہ رقم طلب نہ کی۔مسٹر ایک بھر کی گفتگو بہت دلچسپ ہوتی تھی۔وہ پنجاب کی تاریخ سے خوب واقف تھے اور چیف کورٹ کی تو چلتی پھر تی تاریخ تھے۔ابھی میرے ساتھ کام کرتے تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ انہوں نے زور دینا شروع کیا کہ تم پر کمیٹی کی طرف زیادہ توجیہ کرو تمہارا کام بہت جلد بڑھ جائے گا۔لاہور میں قابل مسلمان کے لئے بہت گنجائش ہے۔ہمار کی ملاقات اقوالہ کے سوائے ہر رونہ ہوتی تھی۔اور ہر روز کسی نہ کسی تعلق میں وہ ضرور اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ادویہ مجھے ترغیب دیتے رہتے تھے۔ایک دن کہا میں صبح عموما مسٹر جسٹس بارہ مینوں کے ہمراہ سیر کو جانتا ہوں۔آج صبح سیر کے دوران میں پانی کورٹ بار کا ذکر آ گیا۔بچ صاحب نے کہا سلمانوں میں اچھے وکلاء کی کمی ہے میں نے پوچھا نو جوانوں میں کوئی آگے بڑھنے والے ہیں۔انہوں نے کہا ایک کے متعلق اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ جلد آگے آجائے گا اس کا طریق استدلال بہت موثر ہوتا ہے۔میرے پوچھنے پہ کہ کیا مسر عزیز احمد سے بھی زیادہ کہ عزیز احمد کا تجر بہ بیک زیادہ ہے لیکن ظفر اللہ خاں کا طرنہ بیان عزیز احمد سے بہتر ہے۔یہ سنا کر کہنے لگے دیکھو اب تو یہ بھی تمہارا ذکر کرنے لگے ہیں تمہیں چاہیئے پریکٹس کی طرف زیادہ توجہ کرد روسٹر عزیز احمد مجھ سے کسی سال سنیر تھے راولپنڈی میں کئی سال پر پکٹس کرنے کے بعد لاہور آگئے تھے۔مسٹر جبس ما ریٹینو راولپنڈی میں سیشن بج رہ چکے تھے ان کے اور میسر عزیہ احمد کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم تھے) مدراس ہائی کورٹ میں ایک جماعتی کیس کی پیروی اسی دوران میں مجھے حضرت خلیفہ البیع الثانی کا اشار ایک موصول ہوا کہ میں مدر اس ہائی کورٹ میں ایک فو بعدا که نگرانی کی پیروی کروں۔جس کا اللہ جماعت احمدیہ کے حقوق پر پڑھتا تھا۔جنوبی ہند کے مالابار کے علاقے میں مسلمان آبادی کا ایک طبقہ مالا کہلاتا ہے۔یہ لوگ ان عرب تا عبر وں کی اولا ہیں جو مالا بار میں اگر میں گئے اور اسی علاقے کی عورتوں سے شادیاں کر لیں۔ماپلا قوم کے مسلمان بہت مقر تک ملکی سیوم و رواج کے پابند ہیں۔اس علاقے میں مادری نظام رائج ہے اور یہی صورت کو سپین اور ٹرا نکویر میں بھی ہے۔ماپلا لوگ بھی اسی نظام کے پابند ہیں۔اس نظام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وراثت کا سلسلہ اور نسب کا سلسلہ باپ کے ذریعے نہیں بلکہ ماں کے ذریعے چلتا ہے۔عورت خاوند کو بیاہ لاتی ہے اور عورت ہی مشترکہ خاندان کی سردار ہوتی ہے۔گو جائداد اور اختیارات مرد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔لیکن بیٹا باپ کا وارث نہیں ہوتاماں کا وارث ہوتا ہے۔اس کے مرنے پر دراشت اس کے بیٹوں کی طرف منتقل نہیں ہوتی بلکہ اس کا چھوٹا بھائی کیحیثیت اس کی مال کا بیٹا ہونے کے صدارت