تحدیث نعمت — Page 180
{A۔افضل دفاتر دور تھے اسلئے سواری کا انتظام ضروری تھا۔ہم نے ایک پرانی ملکی گاڑی خریدی۔سیدان علی صاحب کے ماموں سید فیض العسکری صاحب اس وقت فیروز پورہ میں تحصیلدار تھے انہوں نے مہربانی سے ایک عمدہ گھوڑا بھیج دیا اور ہماری سواری کا انتظام ہو گیا۔یکم اپریل سے ہم ۲۶ ڈیوس روڈ میں منتقل ہو گئے۔یہ بنگلہ سٹرک سے بہٹ کر کچھ نا صلے پر تھا اور اس کے گرد فراغ قطعہ بطور با نیچے وغیرہ کے تھا۔۔۔حکومت کے خلاف سیاسی | 4 اپریل کو لاہور میں اور پنجاب کے بعض دیگر شہروں میں مظاہرے اور مارشل لا کا نفاذ حکومت کے خلاف سیاسی مظاہرے ہوئے جلوس نکلے اور بعض مقامات پر پولیس کے ساتھ تصادم بھی ہوا۔لاہورہ میں طلباء کا ایک جلوس انار کلی اور نیلے گنبد سے گذر کر ٹھنڈی سڑک پر پہنچانار کلی بازار میں جلوس کا جھنڈ ایشیخ اعجاز احمد صاحب بلند کئے ہوئے تھے۔ٹھنڈی سڑک پر پہنچنے سے پہلے جھنڈا ان سے مراے ایم جان نے لے لیا۔ٹھنڈی سڑک پر پولیس نے مبلوس کو رد کرنا چاہا۔اس پہ تکرار ہوگیا اور پولیس نے گولی چلائی ایک گولی مسٹر اے ایم جان کو گھٹنے کے نیچے لگی۔جلوس منتشر ہو گیا لیکن عوام میں جوش اور بہیجان کم ہونے کی بجائے بڑھتا گیا۔جب دوسرے شہروں سے بھی ایسی خبریں آنا شروع ہوئیں تو جوش اور بھی بڑھ گیا۔پبلک جلسے اور سیلوس چاروں طرف شروع ہو گئے۔جب پنجاب کے بہت سے شہروں میں امن عامہ کی حالت مخدوش ویگن اونا یا ان کی کایا جنرل ڈائر کے وحشیانہ احکام جنہوں نے ۱۳ اپریل کو خاکار کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ہندوستان میں برطانوی حکومت کی بنیاد کھوکھلی کردی کارت د موصول ہوا کہ چند گھنٹوں کے لئے مشورے کے لئے قادیان حاضر ہوں۔والد صاحب اور والدہ صاحبہ ان دنوں خاک ار کے پاس تشریف فرما تھے۔میں سمار کی صبح کی گاڑی قادیان گیا اور عرض کرتا گیا کہ رات کی گاڑی سے انشای اللہ واپس آٹھاؤں گا۔اسی دن امرتسر میں بجلیانوالہ باغ کا تو میں واقعہ ہو گیا۔لاہور میں بھی مارشل لاء کا نفاذ ہو گیا۔بہت سی پابندیاں نقل و حرکت پر عاید کی گئیں۔کرفیو کا عمل جاری ہو گیا ، شہر کے اندلہ نہ زندگی دوبھر ہو گئی سول سٹیشن میں چونکہ بہت سے یورہ مین اور اینگلو انڈین بھی رہتے تھے اسلئے وہاں بہت کم پابندیاں عاید کی گئیں۔ایک شہر سے دوسرے شہر تک جانے پہ کٹڑی پابندی عاید کی گئی۔ہر بات کے لئے مارشل لاء کے افسروں سے پاس حاصل کرنا ضروری ہو گیا۔امرت ہمیں تو جلیانوالہ باغ کے حادثے کے علاوہ بہت سے اور مظالم روا رکھے گئے جن کی غرض عقوبت کے علاوہ تذلیل بھی تھی۔ان میں سے ایک رینگنے کا حکم بھی تھا۔وہاں کے فساد میں ایک اینگلو انڈین خاتون بیگناہ قتل ہوئی تھی۔بیشک یہ ایک وحشیانہ فعل تھا اور