تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 175 of 736

تحدیث نعمت — Page 175

148 پبلسٹی کمیٹی کے اجلاسوں میں ہو فیصلے ہوئے منجملہ ان کے ایک یہ بھی سنتھا کہ ایک اخبار جاری کیا سجائے۔جس میں علاوہ مخبروں کے جنگ کے مختلف پہلوؤں پر اور اس کے نتائج اور آئندہ پیش آنے والے معالات پر اہل دانش اور تدبیر کے نتائج فکر بھی شائع ہوئی۔خان صاحب شیخ عبد العزیز صاحب سیلیسٹی کمیٹی کے سکریٹری مقرر ہوئے اور پیلیٹی کے مختلف شعبوں کی نگرانی ان کے سپرد ہوئی۔انہوں نے اپنے معاونین کے طور پر دو ایسے اصحاب کا انتخاب کر کے اپنی ہو ہر شناسی کا ثبوت دیا ہجو بعد میں علاوہ ان فرائض منصبی کی سرانجام دہی کے علم و ادب کے میدان کے بھی شہسوار ہوئے۔اول حکیم احمد شجاع صاب پنجاب لیجسلیٹو کونسل میں پہلے ترجمان، پھر اسسٹنٹ سکہ بیڑی اور پھر سکریٹری ہوئے۔دور سید افضل علی صاحب جنہوں نے تھوڑا عرصہ پہلے ہی ایم اے کا امتحان پاس کیا تھا۔ایک دلچسپ دیوانی مقدمہ سیالکوٹ میں ہمارا ر ہائشی مکان محلہ تنخاس میں تھا۔اس محلے کی آبادی لوہاروں کی تھی۔بعین میں سے اکثر تو آہنگری پیشہ کرتے تھے لیکن بعض معمار تھے اور بعض ملا ندم تھے۔ایک کہنے کے افراد نے جراحی کے اوزار بنانے میں استقدر مہارت حاصل کر لی تھی کہ ان کے تیار کردہ اوزاروں کی شہرت اور مانگ دور دورہ تک پھیلی ہوئی تھی۔یہ سب لوگ آپس میں رشتے دار تھے۔گویا سالیا۔ق محلہ ایک وسیع کنبہ تھا۔جیسے عام طور پر ایسے پیشہ وروں کے متعلق دیکھنے میں آیا ہے یہ سب لوگ بار اعلان دیندار ، شریف ،کردار ، پابند احکام شریعیت، ہمدرد اور با وفا تھے۔ہمارے ساتھ ان سب کا سلوک نہایت شریفانہ اور ہمدردانہ رہا۔جب ستمبر سنشلہ میں میرے والدین سلسلہ احمدیہ میں بحیت ہوئے تو ہمارے آپس کے تعلقات میں کچھ فرق نہ آیا۔محلے والوں میں سے مستری اللہ دتا صاحب کا گھرانہ سرکردہ گھرانہ تھا۔ان کا مکان لب سڑک تھا۔اس کی تقسیم اس طور پر تھی کہ سٹرک کی طرف (جس کا نام سندر انوالہ باز انہ تھا) نچلی منزل میں ان کی دو کا میں نقص جن میں وہ آہنگری کا کام کرتے تھے ان کے پیچھے ان کا رہائشی مکان تھا جس کا دروانہ ہ سڑک کی طرف نہیں بلکہ ساتھ والی گلی میں کھلتا تھا۔دوکانوں کی چھت رہائشی مکان کی اوپر کی منزل کے صحن کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔اس کے گرد چہ دے کی دیوا نہ تھی اور اس پر مختصر سی کوئی عارضی عمارت غسل خانہ وغیرہ کی بھی تھی۔مستری صاحب کے تین فرزنہ ندمتری غلام حسین ، مستری علی محمد اور مستری محمد علی صاحبان تھے۔اور پھر آگے ان کی اولاد تھی۔کثرتِ عیال کے ساتھ ضروریات میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور کاروبار میں بھی وسعت ہوتی گئی۔ایک مرحلے پر انہیں کچھ سرمائے کی ضرورت پیش آئی ان کے ایک دوست شیخ میران بخش صاحب تھے جو ایک وقت میں ریاست جمہوری میں ایک معزنہ