تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 159 of 736

تحدیث نعمت — Page 159

۱۵۹ ہوتے ہوتے سورج غروب ہو گیا۔لیکن اس رات پوری چاندنی تھی۔جمنا کا پانی چاند چاندی کی طرح چمکتا نظر آتا تھا۔پانی کی رو تو خاموش تھی لیکن بہت گہری تھی کشتی علین من میں چل رہی تھی اور چونکہ بہار کے مخالف سجاد کی تھی اسلئے رفتار بہت دھیمی تھی۔میں تھی۔میں نے سید النعام اللہ شاہ صاحب سے کہا میر صاحب اگر کشتی بان کہے کہ کشتی میں کو تجھ زیادہ ہے اور میں اسے سنبھال نہیں سکتا۔ضروری ہے کہ آپ میں سے ایک شخص پانی میں کود جائے تاکہ بوجھ ہلکا ہواور میں باقی سبک سلامتی سے کنار سے لگا سکوں تو کیا آپ ہم سب کی خاطر یہ قربانی دنے کیلئے تیار ہو جائیں گے ؟ سید العام اللہ صاحب کے چہرے کی حالت قابل دید تھی۔سراسیمگی سے جھنجھلا کر کہا۔بھلا یہ بھی کوئی مذاق کا موقعہ ہے کیسے لطف کی کیفیت کو تم نے بدمزہ کر دیا۔کھائے پہ پہنچ کر ہم گاڑی میں سوار ہو گئے اور شہر کو چلائیے۔سید صاحب خلاف عادت بالکل خامیوں تھے۔جب ہم دریا سے کوئی دو میل دور جا چکے تو دفعتا چونک کر کہا ظفر اللہ خاں تمہارا کیا خیال ہے کیا میں ن کود جاتا ہے" میں نے کہا ناں آپ ضرور کو د جاتے۔الا آباد سے پٹنہ واپسی کا سفر رات کے وقت ہوا صبح جب گاری پٹنہ پہنچنے کو تھی اور میں تیارہ ہولی تو میں نے سید صاحب سے دریافت کیا ہمارے اور کوٹ کہاں ہیں ؟ کہنے لگے اوریہ کی سیٹ پر رکھے ہیں۔میں دیکھ چکا تھاکوٹ اور پر کی سیٹ پر نہیں تھے۔اس ڈبے میں صرف تم دونوں سفر کر رہے تھے ہم نے سمجھ لیا کہ کوٹ رات میں پوری ہو گئے۔ہم نے فیصلہ کیا کہ پولیس کو اطلاع دنیا بے کار ہے۔وار سوموالہ کے دن ہم وقت پر اجلاس میں حاضر ہو گئے ضابطہ دیوانی کے آرڈر اہم قاعدہ کے ماتحت متعدد درخواستیں فہرست میں درج تھیں ان کے بعد مطبوعہ فہرست میں چور تھے یا پانچویں نمبر پہ مارا کہیں تھا لیکن اس کے گرد سرخ حلقہ کھینچ کر سے پہلے نمبر پر ظاہر کیا گیا تھا۔ہم اجلاس میں ہی بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگے ایک تو اس وجہ سے کہ میں وہاں کسی کو جانتا نہ تھا اور خورشید حسین صاحب بھی ہمارے نزدیک نہ بچھکے تھے کہ ان کی سربر پستی میں میں بارہ روم میں جا بیٹھنا دوسرے اس لئے بھی کہ اجلاس میں بیٹھنے سے بچ صاحبان کے مزاج کا کچھ اندازہ ہو جائے گا اور یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ پہنچ کو خطاب کرنے کا کیا طریق ہے اور عدالت کے کیا آداب ہیں۔میں گاؤن ، وگ وغیرہ تو پہنے ہوا تھا لیکن اجلاس میں بیٹھے ہوئے وکلاء کو دیکھ کر احساس ہوا کہ میرے سوٹ کی بیکٹ سیاه ہونی چاہئے تھی اور میں عام روز مرہ کا سوٹ پہنے ہوئے تھا۔اسی دوران میں اجلاس میں تشریف لائے اور بڑی شفقت سے میرے کندھے پہ ناتھ نہ کھ کر اور میری طرف ٹھیک کہ