تحدیث نعمت — Page 147
۱۴۷ چودھری شمشاد علی خان صاحب بھی تشریف لاتے۔سید احمد شاہ صاحب بنجاله ی ماسید محمد شاہ صاحب بھی تشریف فرما ہوتے۔جب موقع ملتا سید انعام اللہ شاہ صاحب سیالکوٹ سے تشریف لاتے۔گاہ گاہ بعض اور احباب بھی جمع ہو جاتے۔بہت لطف کی صحبت رہتی یونگ بال سے مولوی محمد شریف صاحت مل ہوتے۔سید افضل علی صاحب مراد آباد کے ایک چوٹی کے سید خاندان کے چشم و چراغ تھے۔پنجاب میں بر طانوی عملداری کے قیام پر صوبہ بجات متحدہ سے بہت سے افسران پنجاب میں تعینات ہوئے میرے بچپن کے زمانے تک ان افسران اوران کے افراد خاندان کو ہندوستانی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔اس وقت تک ان سب خاندانوں کی زبان اور معاشرت ہندوستانی تھی۔پنجابی زبان یا معاشریت کا اشتران میں دیکھنے میں نہیں آتا تھا۔ان کے لباس کی طرز بھی ہندوستانی تھی۔خوراک کا بھی یہی حال تھا۔اس وقت تک پنجاب کے وسطی اضلاع میں پان کا استعمال انہیں تک محدود تھا۔سچائے بھی زیادہ تر انہیں گھرانوں میں استعمال ہوتی تھی۔رشتہ ناطہ بھی ان خاندانوں کا آپس میں ہوتا تھا۔انکی رہائش ایک ہی محلے میں یا قریب قریب کے محلوں میں جوا کر تی تھی۔فوجی چھاؤنیوں میں ملازمت پیشہ اور نوکر طبقہ بھی ہندوستانی ہوا کرتا تھا۔سید افضل علی صاحب کے دادا صاحب محترم ایک وقت میں لا ہورہ کے کو توال تھے۔ان کے نانا ڈپٹی قائم علی صاحب گورداسپور میں ریونیو افسر تھے۔ان کے والد محترم سید فضل علی صاحب سیالکوٹ میں ڈسٹرکٹ جج کے ریڈر تھے اور ان کی رہائش میں نہ پورہ میں تھی۔ان کے بڑے ماموں سید فیض العسکری صاحب تحصیل دار تھے اور چھوٹے ماموں سید نذر الباقر صاحب کمسری میں افسر تھے۔ان کے دونوں ماموں ان کے پھو بھا بھی تھے۔سید افضل علی صاحب کی پہلی شادی سید کی نذیر الباقر صاحب کی چھوٹی صاحبزادی سے ہوئی اور ان کی وفات کے بعد دوسری شادی سید فیض العسکری صاحب کی بڑی صاحبزادی سے ہوئی۔سید نذر الباقر صاحب کی بڑی صاحبزادی کی شادری سید سجاد سید یلدرم صاحب سے ہوئی۔میاں بیوی دونوں بڑے پائے کے ادیب تھے۔ادب اور انشا پردازی اس گھرانے کا خاصہ تھے۔والدہ سید افضل علی کا ناول گوڈر میںکا لحل مشہور ادبی شاہکار ہے۔سید افضل " علی صاحب کے ادبی مضامین کا مجموعہ تخیلات پنجاب یونیورسٹی کا کورس ہے۔سید فضل علی صاحب مدد سے کے ابتدائی درجے ہی میں میرے ہم جماعت تھے۔ان دنوں ان کے والد صاحب کی رہائش قلعہ کے نیچے زنانہ مشن ہسپتال کے قریب تھی۔جب وہ نقل مکان کر کے میانہ پورہ میں چلے گئے تو سید فضل علی صاحب کو امریکن مشن سکول میں داخل کروا دیا تو ان کے نئے مکان کے قریب تھا۔جب شہنشاہ میں والد صاحب نے مجھے بھی اسی مدرسے میں داخل کروا دیا تو ہم پھر ہم جماعت ہو گئے۔