تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 146 of 736

تحدیث نعمت — Page 146

نے خیال کی مہینے کے آخر پر معلوم ہو جائے گا کہ چودھری صاحب کا کیا منشا ہے۔والد صاحب کی خوشنودی کے مقابل مجھے کسی اور بات کی پرواہ نہ تھی۔یکم نومبر کوجب مجھے اکتوبہ کی تنخواہ بھی پوری ادا ہوئی تو میں جناب نچودھری صاحب کا اور بھی ممنون ہوا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء شروع اکتوبر سے میرا پرو گرام ہوگیا کہ میں اتوارہ کی رات کو سیالکوٹ چلا جانا اور تین دن وہاں کام کر کے بدھ کی رات یا جمعرات کی صبح کو واپس لاہور آ جاتا۔اس اثناء میں کالج بھی کھل گئے تھے۔اور یودھری شمت و علی نھاں صاحب تو گورنمنٹ کا لج میں ایم ایس سی کیمیا کی تیاری کر رہے تھے اور شیش محل ہوٹل میں مجھتے تھے۔سید فضل علی صاحب نو زمین کرسچین کالج میں ایم۔اسے تاریخ کی تیار ی کر رہے تھے اور کالج کے نئے ہوسٹل یونگ ہال میں فروکش تھے۔ان دوستوں کے لاہور آجانے سے میرا اکیلے پن کا احساس بہت حدتک رخ ہو گیا۔اکتور یہ ہی میں کسی وقت اللہ تعالی کے فضل سے میری سائش کا بھی خاطر خواہ انتظام ہوگیا۔چو دھری صاحب کے یہ ناکشی مکان کے مغرب کی طرف ایک اور مکان چودھری صاحب کی ملکیت تھا۔جو سچودھری صاحب نے شیخ رکن دین صاحب سینیٹر سب ج لا ہوریہ کو رہائش کے لئے دے رکھا تھا۔شیخ نصاب بھی ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور پو دھری صاحب کے ساتھ ان کے دوستانہ مراسم تھے۔اکتوبر میں شیخ صاحب کا تبادلہ ہو گیا اور وہ مکان تعالی ہو گیا۔چودھری صاحب نے خود ہی مجھ سے کہا کہ اگر یہ مکان تمہاری ضروریات کے مطابق ہو تو تم اس میں آجاؤ۔مکان بہت اچھا نیا ہوا تھا۔مجھے بہت پسند آیا مکانیت خاصی تھی۔میں نے اس مکان میں رہائش کرلی۔میں نے مکان کے کرائے کا کوئی ذکر چودھری صاحب کے ساتھ نہ کیا۔تو کیا یہ بھی وہ فرماتے مجھے بخوشی منظور ہوا اسکین انہوں نے خود ہی فرما دیا کہ کرائے کا کوئی سوال نہیں۔اس وقت شہر کے اندر بھی بجلی کا انتظام نہیں تھا کچھ عرصہ بعد اندرون شہر بجلی میسر آنے لگی اور چودھری صاحب نے دفتر کی عمارت میں اور اپنے رہائشی مکان میں بجلی کا انتظام فرمایا تو ساتھ ہی میرے رہائشی مکان میں بھی یہ انتظام فرمایا ادرایت و فرمایا کہ اس مکان کا بجلی کابل بھی دفتر کی طرف سے ادا ہوا کرے گویا میرے لاہور پہنچنے سے دو مہینے کے اندر مجھے مفتے میں تین دن سیالکوٹ رہنے کی اجازت مل گئی۔رہائش کیلئے بلا کر یہ مشکان مل گیا اور مکان کے ساتھ بجلی اور پانی کا انتظام بھی کر دیا گیا۔فالحمد للہ۔پچند دنوں میں میں نے مکان کا سامان وغیرہ مہیا کر لیا اور ایک ملازم کا انتظام بھی ہو گیا۔سید میرا فضل علی صاحب | ان دنوں شام کے وقت ہفتے میں تین چار دن سید افضل علی صاحب کے کمرے میں مجمع احباب ہوتا اور محفل جمتی تھی۔میں جب بھی ممکن ہوتا اس میں شریک ہوتا