تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 138 of 736

تحدیث نعمت — Page 138

میری رائے میں ابتدائی مشاہرہ بھی زیادہ ہونا چاہیئے اور مشاہرے کی آخری حصہ بھی زیادہ ہونی چاہیے اس سے میں نے اندازہ کیا کہ اگریت ہرے میں ایزادی ہو جائے تو والد صاحب کو اس تجویز پر کوئی تعرض نہ ہو گا۔چنانچہ میں نے پچودھری شہاب الدین صاحب کی خدمت میں لکھا کہ میں آپ کے مشورے کا ممنون ہوں۔میری طبیعت اس کام کے کرنے پر مائل ہے۔لیکن فیصلہ کرنے سے پہلے ایک تو آپ کے تو یہ کردہ مشاہرے میں کچھ ترسیم چاہتا ہوں۔اور دوسرے کام کی نوعیت اور اسسٹنٹ ایڈمیر کے فرائض اور مراعات کی نسبت کچھ تفصیل معلوم کرنا چاہتا ہوں جس سے مجھے فیصلہ کرنے میں مدد مل سکے۔اس خط و کتابت کے دوران میں پچودھری صاحب ڈلہوزی میں تشریف فرما تھے۔انہوں نے جواب میں تحریر فرمایا مجھے تمہاری تو یہ مشاہرے کے متعلق منظور ہے۔تفاصیل عند المطلاقات ملے ہوسکتی ہیں۔میں ۲۲ اگست کو دو تین دن کیلئے لا ہو جاؤں گا اگر تم مجھے وہاں ہیں لوتو بالمشافہ گفتگوں سب کچھ سمجھا دوں گا۔ان کا جواب ملنے پر میں نے استخارہ کیا اوریہ اپنے تئیں مطمئن پاکر میں ۲۳ اگست کی صبح کو دس بجے کے قریب ان کی خدمت میں لاہورہ حاضر ہو گیا۔انڈین کیسینز کا دفتر اور چودھری صاحب کا رہائشی مکان بانارہ جم محمد لطیف میں واقعہ تھے۔دفتر کی عمارت دو منزلہ تھی۔رہائشی مکان کے پچلے کمرے دفتر اور پریس کیلئے استعمال ہوتے تھے۔چودھری صاحب دفتر کی عمارت کی اوپر کی منزل میں ہو ان کے اپنے استعمال کے لئے مخصوص تھی یہ آمد ہے میں تشریف فرما تھے اور اپنے کام میں مصروف تھے۔چودھری صاحب نے مختصر طور پر مجھے میرے فرائض سے آگاہ کیا۔میں ماہ کی پریکٹس کے عرصے میں مجھے انڈین لا لہ پورٹس۔پنجاب کہ یکارڈ، انڈین کیسیز وغیرہ سے واقفیت ہو چکی تھی۔ہر ماہ پنجاب یہ کارڈ کا شمار ا جب آنا تو میں شام کے وقت اس میں درج شدہ نظائر میں سے تین چار پر روزہ والد صاحب کو پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔تیس سے مجھے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلہ حیات اور قانونی مسائل کی باریکیوں اور پیچیدگیوں سے کسی قدر واقفیت بھی ہو گئی تھی اور ان میں دلچسپی بھی پیدا ہو گئی تھی۔اس لئے ایڈیٹری کے کام کا یہ حصہ تو مجھے کچھ مشکل نظرنہ آیا۔البتہ طباعت کے کام کی نگرانی اور پروف پڑھنا اور ان کی اصلاح کرنا میرے لئے ایک نئی بات تھی۔چودھری صاحب نے اس ابتدائی وضاحت کے ساتھ ہی اپنے دفتر سے دریافت کیا کہ پنجاب چیف کورٹ کے کوئی نئے فیصلے آئے ہیں ؟ معلوم ہوا اس دن یا ایک دن قبل چیف کورٹ کے سولہ فیصلے دفتر میں پہنچے ہیں۔چودھری صاحب نے دفتر کو ارشاد فرمایا کہ پورٹ کے تیار کردہ ہیڈ نوٹ ان سے علیحدہ کر لو اور فیصلہ جات کی نقول تو آئی ہیں وہ بھیج دو۔یہ نقول میرے سپرد کیں اور فرمایا ان میں سے جتنے فیصلوں کے ہیڈ نوٹ 14