تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 139 of 736

تحدیث نعمت — Page 139

تیار کرسکو آج تیار کرلیا۔میں انہیں شام کو دیکھ لوں گا اور کل تو کچھ ان کے متعلق کہنا ہو گا بتادوں گا۔یہی طریق اس کام کے سیکھنے کا ہے۔میرا خیال تو یہ تھا کہ اس دن چودھری صاحب کے ساتھ اصولی بات چیت ہوگی اور اس کے بعد اگر میرا اور اطمینان ہو گیاتو میں زبانی گذارش کروں گا کہ میں آمنہ ستمبر با شروع اکتوبر میں حاضر ہو کہ کام شروع کر دوں گا ورنہ یہ عرض کر دوں گا کہ میں اس وقت رخصت ہوتا ہوں۔تحر یا آپ کی خدمت میں تو کہنا ہے گذارش کر دوں گا لیکن چودھری ماسی نے فوراً میرے عملی امتحان کی صورت پیدا کردی۔میں نے تخیال کیا آج کا دن تو لا ہو ر ٹھہرنا ہی ہے۔کل پوری بات چیت کر کے دھرم سالہ چلا جاؤں گا جہاں میرا ارادہ ستمبر کا مہینہ گزارنے کا تھا۔فیصلوں کی نقول لیکر میں ساتھ کے کمرے میں چلا گیا جہاں میرے لئے میز اغذ قلم وغیرہ مہیا کر دیے گئے تھے دعاء کی اہلی تو نے خاص فضل سے مجھے اس کام کی سمجھ عطا فرما اور اسے میرے لئے آسان کر دے۔دو چار فیصلے پڑھے تاکہ اندازہ ہو جائے کہ جو کام میرے سپرد ہوا ہے وہ مجھے آسان نظر آتا ہے یا مشکل۔یہ تو مجھے پہلے ہی احساس تھا کہ چیف کورٹ کے فیصلے نستنا سادہ اور آسان ہوتے ہیں۔ہمارے بیج صاحبان بلا ضرورت پیچیدگیوں میں نہیں الجھتے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی احساس تھا کہ چودھری صاحب نے فرمایا ہے۔ہیڈ نوٹ نوٹ تیارہ کرنا ایک فن ہے۔جس میں مہارت پیدا کرنے کے لئے لمبی مشق کی ضرورتہ ہو گی۔میں نے جب تین چانہ فیصلے پڑھے تو خیال ہوا کہ ان کے ہیڈ نوٹ تیار کرنا تو کوئی مشکل کام نہیں ہونا چاہیے۔اس سے مجھے کچھ حوصلہ ہوا اور مں نے اللہ تعالیٰ اسے توفیق طلب کرتے ہوئے قلم اٹھایا اور توبہ سے اپنے کام میں لگ گیا۔ابھی دو تین سینڈ نوٹ تیار کئے ہوں گے کہ سچودھری صاحب نے آواز دی آؤ کھانا کھاؤ۔میں حاضر ہوگیا۔ہاتھ دھو کر کھانے میں شامل ہو گیا۔چودھری صاحب نے دریافت کیا یہیں ٹھہرو گے نا ؟ میرے ذہن میں تو لاہورہ ٹھہرنے کا کوئی پروگرام تھا ہی نہیں۔بوب شاید میں گورنٹ کالج میں داخل ہونے کیلئے آیا تھا تو چودھری صاحب کے ہاں ٹھہرا تھا۔بعد میں بھی دو تین بار ان کے ہاں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا تھا۔لاہور میں ایک دن تواب ٹھہر نا پڑ ہی گیا تھا۔لیکن میرے دل میں خیال آیا کہ اگر میں نے پو دھری صاحب کے ساتھ کام کرنا ہے تو مجھے ان کا مہمان نہیں ہونا چاہیے۔میں نے کہا آپ اجازت دیں تو میں آسانی سے اور انتظام کر لوں گا۔انہوں نے پھر فرمایا میں ہمارے پاس ہی ٹھہر دیم نہیں سہولت رہے گی۔میں نے عذر کر دیا۔کھانا ختم ہونے کے بعد چند منٹ متفرق گفتگو رہی۔پھر میں اجازت لیکر واپس اپنے کمرے میں چلا گیا اور اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔سوائے نماند کی ادائیگی کے میں نے کسی اور طرف توجہ نہ کی۔چار بجے تک میں نے بفضل اللہ سولہ فیصلہ جات کے ہیڈ نوٹ تیار کر لئے چودھری صاحب اس وقت تک کہیں یا ہر تشریف لے جا چکے تھے۔میں نے سب فیصلہ جات ہیڈ نوٹ سمیت چودھری