تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 135 of 736

تحدیث نعمت — Page 135

۱۳۵ سرکاری دفاتہ بھی تھے۔لیکن اپر دھرم سالہ کی کیفیت ایک چھوٹے سے گاؤں کی تھی۔کوئٹہ دھر مسالہ میں خالصاحب اللہ بخش صاحب نے اپنا خوشنما بنگلہ بنایا ہوا تھا۔وہ جنگلات کے محکمہ کے میشن یافتہ افسر تھے اور دھر مسالہ ہی میں بس گئے تھے۔بعد میں بھی میری ملاقات ان سے ہوئی مبہت خلیق اور متواضع تھے۔اپر دھر مسالہ میں لال دین صاحب کے والد نبیند گواہ ماسٹر محمد دین صاحب کی رہائش تو رجمنٹ میں تھی لیکن ہمارے لئے انہوں نے مکان قصبے کی آبادی میں لے رکھا تھا۔ہر شام وہ کھانا بہار ساتھ کھاتے تھے اور کچھ وقت ہمارے ساتھ گزارتے تھے۔اپر دھرمالہ کی ملندی سطح سمندر سے تقریب نو ہزار فٹ ہے اور شمالی جانب اونچے پہاڑوں کا سلسلہ ہے جو تمام وقت برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔ایمر در محرم سالہ سے پیار ہزار فٹ اوپر منتقل کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔وہاں تک پہنچنا کچھ مشکل نہیں تھا اور میرے ساتھیوں نے دو ایک بار برف دیکھنے کیلئے جانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا لیکن مجھے کوئی ایسا شوق نہیں تھا اسلئے یہ تو یہ عمل میں نہ آسکی۔قصے کے عقب میں کچھ مہندی پر سے ایک پہاڑی نالہ بہت شفاف پانی کا برف کی مانند سرد بہتا تھا۔جب دھوپ نکلی ہوئی معمولی اور موسم سرد نہ ہوتا تو ہم اس نامے میں نہانے کیلئے جاتے۔اس کے درمیان بڑی بڑی چٹانیں تھیں جن کے گرد پانی بہتا تھا۔پانی کے اندر تو چند سیکنڈ سے زیادہ بیک وقت پھر ناممکن نہیں تھا۔ہم کنارے سے اتر کر پانی میں سے جو کہ ایک بڑی چٹان پر دھوپ میں بیٹھ جاتے۔پڑھتے یا بات چیت میں وقت گزرتا۔ان دنوں ایک کھیل کا رواج تھا جسے لوڈر کہتے تھے کبھی دیکھیئے۔کھیل کے دوران میں اگر یوڈو کا چھوٹا سا کوردانہ جس پر نشان لگے ہوتے تھے پانی میں گر جاتا تو چودھری عالم دین صاحب فوراً حکم دیتے لال دین کو د جائے دہ کچھ دن تو ہوتے کہ ہر بات یخ بستہ پانی میں اتر نے کو انہیں ہی کہا جاتا ہے۔لیکن برادر خور د تھے الیافت کے سوا چارہ بھی نہیں تھا۔پانی اسقدر شفاف تھا کہ میں چٹان پر سے بیٹھے ہوئے بھی پانی کی نہ دیں دانہ صاف نظر آتا تھا کہ کس جگہ گیا ہے۔چار ہفتے کا عرصہ بہت لطف میں گذرا لیکن رات کے وقت کچھ محصول تازہ خون کی صورت میں پلنگ کی پھولوں میں رہنے والوں کو اداکرنا پڑتا تھا۔لال دین صاحب نے کینگز پاور خشک تنباکو یا اور تو کچھ کسی نے بتایا چادروں پر پھڑ کا ، البتا پانی منگوں کی پولوں میں ڈالا، لیکن اس اذیت سے مخلصی نہ ہو سکی۔ستمبر کے آخر میں ہم لاہور واپس آگئے۔اگر چہ ان دنوں گرمی کی شدت کم ہو چکی تھی لیکن ہمیں نو ہزار فٹ کی بلندی سے اترنے پر عمارت کا درجہ ابھی تکلیف دہ معلوم ہوتا تھا۔نہ ہو۔