تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 132 of 736

تحدیث نعمت — Page 132

اسٹیشنوں اس نے برف لیمو نیڈ کا مر کیا۔آخر جب گالری پہنچی تو آخری بار برد لیمونیٹڈ لئے حاضر ہوا اور آرک ڈیکین صاحب نے اس کا حساب ادا کر دیا۔گاڑی تین تجھے قبل فجر پٹھانکوٹ پہنچی ان کچھ گھنٹوں میں آرک ڈیکن صاحب سو سکے یا نہیں میں نہیں کہ سکتا۔مجھے لفضل اللہ آسانی سے نیند آجاتی ہے۔لیکن ہر بار صاحب لیونیڈا کی آواز سے آنکھ کھل جاتی اور مجھے تعجب ہوتا کہ دینیر پیل ارک ڈیکن صاحب نے اپنے متبرک معدے میں کس قسم کی بھٹی سلگا لہ بھی ہے میں نے انہیں تشنہ ودائم کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔پٹھانکوٹ کے اسٹیشن کے باہر ہی ڈاک کا تانگہ تیا بہ کھڑا تھا اور ڈاک کے تھیلے اس پہ لادے جا رہے تھے۔معلوم ہوا کہ آرک ڈیکن صاحب بھی اسی تانگے پر سفر کرنے والے ہیں۔میری نشست آگے کو چور ان کے ساتھ تھی اور آرک ڈیکن صاحب کی نشست سمجھے تھی جو ان کیلئے آرام دہ تھی کیونکہ ابن عمر اور وزن کے لحاظ سے پچھلی نشست میں سوار ہونا ان کے لئے آسان تھا۔کوچوان صاحب سکھ تھے جب تم شہر سے نکل کر پالم پور والی سڑک پر ہو لئے اور ذرا اسمال ہونے لگا تو کو چوان صاحب نے میرے ساتھ بات چیت شروع کر دی۔وہ کال کا ، شملہ ، راولپنڈی ، مری ، سرینگر کی سڑکوں پر ڈاک کا تانگہ چلاتے رہے تھے۔باتوں باتوں میں انہیں معلوم ہو گیا کہ میں سیالکوٹ کا رہنے والا ہوں چودھری جلال دین صاحب کا ذکر آگیا ہو اس وقت سپر نڈنٹ ڈاکخانہ جات تھے۔میں نے بتایا وہ برادری میں میرے بھائی ہیں۔کہا وہ بہت نیک شریف انسان ہیں۔ہر ایک سے خوش خلقی سے پیش آتے ہیں۔پہاڑی علاقوں میں ڈاک کے تانگوں کا سفر بہت دلچسپ ہوتا تھا۔تانگہ بہت مضبوط ساخت کا ہوتا تھا۔تین سوارہ یوں ، ان کے سامان اور ڈاک کے تھیلوں کے لئے کشادہ جگہ ہوتی تھی۔دو گھوڑے بجتے تھے۔میدانی حصے میں ہرچھ میل پر گھوڑوں کی بدلی ہوتی تھی۔سپہاڑی علاقے میں ہرتین میل بعد گھوڑے بدے بجاتے تھے۔تمام سفر سرپٹ طے ہوتا تھا۔چوکی کے قریب پہنچنے پر کو بچو ان کے بنگل بجانے پر دو سائیں دوستانہ کسے ہوئے گھوڑوں کو لیکر کھڑے ہو سجاتے تھے۔جو نہی تانگہ کھڑا ہوتا ہھتے ہوئے گھوڑے مٹائے جاتے اور تازہ گھوڑے بوت دیئے جاتے کو جوان دیا جاتا اور دائیں ہاتھ والے گھوڑے کو ایک سچا یک رسید کرتا اور گھوڑے سرپٹ دوڑنا شروع کر دیتے۔گھوڑوں کی تبدیلی میں نصف منٹ سے زیادہ صرف نہ ہوتا۔ہر دس بارہ میل پر بنگلہ ہونا یہاں تانگہ چار پانچ منٹ کیلئے رکھا۔سواریاں اتر کر چند قدم ٹہلتیں یا چائے پانی پی لیتیں۔گھوڑے بہت اچھی سالت میں رکھے جاتے تھے۔اور ان کی مناسب دیکھ بھال ہوتی تھی۔کبھی کوئی گھوڑا شوخی کرتا تو کو چوران