تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 130 of 736

تحدیث نعمت — Page 130

فراتی تجربات اور واقعات کا ذخیرہ لامتناہی تھا۔میں نے جب سیالکوٹ میں کام شروع کیا تو مجھے سے فرمایا قانون تو تم اپنے والد سے سیکھنا لیکن بات کرنے کا ڈھنگ مجھ سے سیکھنا۔بہت حاضر جواب تھے۔بار روم میں پھیڑ خوانی کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن جو صاحب حاجی چو دھری صاح سے چھیڑ خانی پر آتا وہ ہوتے وہ پہلے ہی قدم پر بری طرح پچھاڑے جاتے۔ملک کے نامورث عر فیض احمد فیض حاجی تو دھوتی صاحب کی یاد گار ہیں۔چودھری سردار خاں صاحب ایک متین سنجیدہ مزاج ، عبادت گذار ، کثیر العیال قدامت پسند ، پابند و ضع بزرگ تھے۔والد صات کے ساتھ بہت دوستانہ مراسم تھے۔دونوں گھروں میں آپس میں بہت میں بھول اور آنا جانا تھا۔والد صاحب نے جب سلسلہ احمدیہ میں دلچسپی لینی شروع کی تو یہ امر چودھری صاحب کو ناگوا نہ ہوا۔کبھی گفتگو میں بحث کا رنگ بھی آجانا۔والد صاحب کا سلسلہ عالیہ احمدیہ میں منسلک ہونا چودھری صاحت کے لئے بہت ریخ کا موجب ہوا والد صاحب کی بیعت کا شہر بھر میں بہت چرچا ہوا اور سارے شہر میں فورا نثر پھیل گئی والد صاحب کچہری گئے اور چودھری صاحب سے ملاقات ہونے پر اسلام علیکم کہا۔چو دھری صاحب نے جواب میں فرمایا وعلیکم السلم ان گنت مسلما الوعلیکم السلام اگر تم مسلمان ہو ) والد صاحب نے قریب کے حاضرین کو گواہ ٹھہرایا کہ چودھری صاحب نے میرے مسلمان ہونے میں شک کیا ہے۔اب مجھ پر سلام میں سبقت واجب نہیں البتہ چودھری صاحب اگر چاہیں تو یہ سلسلہ پھر شروع ہو سکتا ہے۔اور میں پہلے کی طرح سلام میں سبقت کرنا شروع کر دوں گا۔چودھری مناب کا مکان لب سڑک تھا اور کھلے موسم میں بعض دفعہ وہ اپنے دفتر کے کمرے کے باہر لب سڑک کر یہی پر تشریف فرما ہوا کھتے تھے۔ان کا مکان مسجد احمدیہ کو جانیوالی گلی کے کونے پہ تھا۔مجھے بارہا وہاں سے گذر نا ہونا تھا میں ابھی مدرسے میں پڑھتا تھا۔میں نے والد صاحب سے دریافت کیا کہ میں چودھری صاحب کی خدمت میں مثل سابق سلام عرض کیا کروں یا نہ۔فرمایا وہ تمہا ہے بزرگ ہیں تمہیں جب بھی موقعہ ہو تم ضر در سلام کہا کرو وہ جواب دیں یا نہ دیں۔مجھ سے دو تین سال سنیٹر شیخ نو ابدین مراد صاحب بیرسٹرایٹ لاء تھے۔اپنے کام میں دلچسپی لیتے تھے۔محنت سے کام کرتے تھے۔طبیعت بہت بشاش تھی۔توقع تھی کہ اپنے پیشے میں ترقی کرتے لیکن چند سال ہی پریکٹس کی بھی کہ داعی اجل کو لبیک کہا۔ابتدائی عدالتوں میں پریکٹس کر جیسے بے رغبتی | سیالکوٹ میں پریکٹس کے لحاظ سے مجھے ایک نهایت میش قیمت سہولت یہ حاصل تھی کہ والد صاحب جیسا شفیق ہمدرد ، صاحب تجربه استناد میسر تھا۔دفتر، لائبریری ، مکان ، سواری، سب موجود تھے۔پھر ج اور مجسٹریٹ ایسے نہیں تھے کہ مجھے ان سے شکایت ہوتی۔ضلع بھر میں برادری اور رشتہ داری کے تعلقات تھے۔جو کام والد صاف میرے