تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 129 of 736

تحدیث نعمت — Page 129

۱۲۹ ختم ہونے پہ ہمارے نوجوان وکلا ء سب میرے گرد جمع ہو گئے۔کہنے لگے تم نے یہ کیا کہہ دیا۔اگر تمہاری نصیحت پر عمل شروع ہو گیا تو ہمارا کاروبار تو ختم ہو جائے گا۔میں نے کہا رزق تو اللہ تعالی اعطا فرماتا ہے۔میں بھی آپ کی طرح پریکٹس کرتا ہوں اور مجھے تو بہت خوشی ہو اگر ملک میں غیر ضروری مقدمہ باندی بند ہو جائے۔خواہ میری پریکٹس بھاری ر ہے یا نہ رہے۔اگر قانون کی پریکٹس نہ رہے گی تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کوئی اور راستہ کھول دیگا۔آپ بتائیں کیا ایک ڈاکٹر کی یہ خواہش ہونی چاہیے کہ ملک میں ہماری بڑھے یا کم محرم؟ سیالکوٹ میں پریکٹس کے زمانے | دیوانی وکلاء میں پنڈت بیلی رام صاحب پیش پیش میں وہاں کے بعض سرکردہ وکلاء تھے۔وہ والد صاحب سے ایک دو سال سنئیر تھے۔میرے انگلستان جانے سے دو تین سال قبل ان کے صاحبزادے مسٹریہ جیت رائے بیرسٹری کی سند حاصل کر کے آئے تھے اور سیالکوٹ میں پریکٹس شروع کی تھی۔ان کا کام بھی بڑھتا گیا لیکن فوجداری میں زیادہ دیوانی میں کم۔شروع میں ہی انہوں نے شہر سے باہر ایک عالیشان بنگلہ تعمیر کیا تھا۔پنڈت بیلی رام صاحب نے بہت لمبی عمر پائی اور شاید ۶۵ سال سے زائد عرصہ پر ملٹیں کی۔سردار سنت سنگھ صاحب کی پریکٹس دیوانی ہی میں تھی۔نہایت شریف طبع کم گو تھے۔اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔فضولیات میں قطعا حصہ نہیں لیتے تھے۔بہت محنت سے کام کرتے تھے۔قانونی کتب اور نظائمہ کا بڑا ذخیرہ ان کے پاس تھا۔لالہ اننت رام صاحب بھی ان کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔انہوں نے خالص اپنی محنت اور توجہ سے اپنی پریکٹس کو فروغ دیا تھا۔ان کے والد عدالت میں پیر سی تھے انکے پر کئی شہر دعا کرنے کے بعد بھی ان کے والد صاحب نے اپنا کام ترک نہ کیا۔باپ بیٹے دونوں کی خود داری کی یہ ایک درخشاں مثال تھی۔نہ بیٹے کو یہ احساس تھا کہ ان کے والد اپنی روزی خود کھانے پر مصر ہیں تو یہ امر ان کے لئے خفت کا موجب ہے۔نہ باپ کو یہ احساس تھا کہ میرا بیٹا ایک کامیاب وکیل ہے اسلئے مجھے اب اپنا کام چھوڑ دینا چاہیئے تاکہ میرے بیٹے کیلئے خفت کا باعث نہ ہو۔جب میں نے پریکٹس شروع کی دیوان چیدن و اس صاحب بہت سی جائداد پیدا کر چکے تھے ریلوے چوک میں ان کا عالیشان بنگلہ اور وسیع باغ تھا۔ان کا مزاج امیرا نہ تھا۔وکالت بھی امیرانہ طریق پر کرتے تھے۔خوش باش تھے۔طبعیت بشاش تھی۔بہت ملنا ر تھے۔خان بہادر حاجی چودھری سلطان محمد خانصاحب بیرسٹر ایٹ لاء۔زندگی کے اتار چڑھاؤ کا بہت تجربہ رکھتے تھے۔مملکت افغانستان میں میرفتی رہ پچکے تھے۔جس محفل میں تشریف فرما ہوتے اس کے روح رواں ہوتے۔جہاندیدہ ہونے کی وجہ سے ان کے