تحدیث نعمت — Page 126
اسلئے بارش کے موسم میں پانی رک جاتا تھا اور ارد گر کے رتبے میں فصل خراب ہو جاتی تھی یہ رقبہ والد صاحب کی ملکیت تھا۔پہلی بار جب ایسا ہوا تو والد صاحب نے متعلقہ محکمہ کو نوٹس دیا کہ سائفن کے نظر کو بڑھانے کا انتظام کیا جائے اور فصل کے نقصان کی تلافی کی جائے۔محکمہ نے مناسب اصلاح کا وعدہ کیا لیکن عملاً کوئی اقدام نہ کیا۔دوسرے سال پھر وہی صورت پیش آئی۔مچھر نوٹس دیا گیا اور نقصان کا معاوضہ طلب کیا گیا لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔تیسرے سال پھر ویسا ہی ہوا۔انکی بار ۸ ضابطہ دیوانی کے مطابق نوٹس دیکمہ والد صا سونے پر جانے کی وصولی کا دیوانی در عولی دائر کہ دیا جو دیوان سیتا رام صاحب کے سپرد ہوا حکومت کی طرف سے ہر طرح کے عذرا ٹھائے گئے لیکن پوری تحقیقات کے بعد دیوان صاحب نے ڈگری صادر کر دی۔اس مقدمے کے آخری مراحل کے دوران میں انگلستان سے واپس آیا تھا۔سیالکوٹ چھاؤنی میں مستری جھنڈا صاحب کی فرنیچر کی دوکان تھی وہ خود بڑے اعلیٰ درجے کے کا ردیگہ تھے۔کچھ کا دیگر ملازم بھی رکھے ہوئے تھے۔انگریز افسران ان کے ہاں کی نجی ہوئی اشیاء کی بہت قدر کرتے تھے۔وہ بہت سنجیدہ مزاج۔شریف طبع انسان تھے۔ان کی ر ہائش شہر میں شبہ معماراں کے محلے میں تھی۔ان کا ایک نو جوان پیر دسی تو ان کا رشتہ دار بھی تھا۔سچالاک اور شوخ طبع تھا۔اور ان سے بلا وجہ بچہ ناش یہ کھتا تھا۔کئی طریق سے انہیں رق کرتا تھا۔آئنہ اس نے ان کے خلاف ایک بے بنیاد استغاثہ دائر کر دیا۔مستغیث کی طرف سے چودھری محمد امین صاحب وکیل تھے میستری تھنڈا صاحب نے والد صاحب کو اپنی طرف سے گیل کیا اور انہوں نے مجھے پیروی کرنے کا ارشادہ فرمایا۔شہادت استغاثہ لینے کے بعد مجسٹریٹ نے استغاثه خارج کر دیا۔لیکن اس سے مستغیث کے رویہ میں کوئی اصلاح نہ ہوئی۔وہ مثل سابق مستری صاحب کے خلاف شرارت اور ایذا دہی کے طریق اختیار کرتا رہا مستری صاحب نے مجھ سے مشورہ کیا کہ اس کی شرارہ توں کا کس طریق سے سد باب کیا جائے۔میں نے انہیں مشورہ دیا کہ اس کی تادیب کیلئے اس کے خلاف بدنیتی سے جھوٹا استغاثہ دائمہ کرنے کی بنا پر ہر جانے کا دیوانی دعوی کیا جائے۔مستری صاحب نے کہا میں تو قانونی باریکیاں نہیں جانتا جو مشورہ تم دود میں اسپر عمل کرنے کو تیار ہوں۔ان کی اجازت اور ہدایت کے مطابق میں نے ہر جانے کا دعومی دائر کر دیا۔مدعا علیہ نے پھر چودھری محمد امین صاحب کو اپنی طرف سے وکیل مقرر کیا۔چودھری صاحب والد صاحب کے دوست بھی تھے اور کچھ دورہ کا رشتہ داری کا تعلق بھی تھا۔میرے لئے وہ ہر طرح