تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 114 of 736

تحدیث نعمت — Page 114

مهما اس کام کیلئے فرصت ہی نہیں ملی اب پھر کسی وقت آکر کروں گا۔امرتسر کے بیٹیشن پر انہیں کوئی واقف مل گیا دوکان کی سچائی اس کے حوالے کی اور کہا یہ ہمارے ہاں پہنچا دیا۔اور کہ دینا کہ میں ظفر اللہ خان کے ساتھ قامه یان جارہا ہوں کل واپس آجاؤں گا۔قادیان میں حضرت خلیفتہ امی نانی کی قادیان میں ہم ایک دن ٹھہرے بہشتی مقبرے میں خدمت میں باریابی اور دوستی بیعت کی سعادت دعا کی مسجد مبارک میں شکرانے کے فل گزارے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں شرف باریابی حاصل ہوا۔دست مبارک پر بیعت کی سعادت نصیب ہوئی۔احباب کی ملاقات سے لطف اندوز ہوئے۔دوسرے دن واپس لوٹے۔ڈاکٹر عباد اللہ صاحب تو امرتہ ٹھہر گئے اور میں لاہور پہنچا۔چودھری شمت در علی خالصاحب اسٹیشن پر مل گئے ان کے پاس ٹھہر کہ درستہ دن بعد دو پر کلکتہ میل پر سیالکوٹ روانہ ہو گیا۔مجھے رخصت کر کے جب وہ واپس ہوسٹل پہنچے تو انہیں والد صاب کا نام ملاکہ اگر ظفراللہ خاں لاہور میں ہو تو اسے وہیں روک لو اور ہمیں اطلاع دو انہوں نے جواب میں نا ر دیا کہ میں ابھی اسے اسٹیشن سے رخصت کر کے آیا ہوں۔سیالکوٹ واپسی میں نے وزیر آباد گاڑی بدلی اور سیالکوٹ پہنچا میں نے اپنا بڑا ٹینک بذریعہ دیل سیالکوٹ بھیجوا دیا تھا۔اسے لینے کیلئے گیا تو کلرک نے پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں۔میں نے کہاں حور سے کہا نہیں اس سے پہلے۔میں نے کہا بیٹی سے۔اس جواب سے بھی اسکی تسلی نہ ہوئی۔ٹرنک پر جہاز کے لیبل لگے ہوئے تھے۔ان کی طرف اشارہ کیا۔میں نے کہا اگر آپ کو اس بات پر حیرت ہے کہ میں انگلستان سے آیا ہوں اور اسٹیشن پر میرے استقبال کے لئے کوئی شخص موجود نہیں تو اسکی وجہ یہ ہے کہ میں نے کسی کو اپنے آنے کی اطلاع نہیں دی۔اسٹیشن سے تانگہ کرایہ کر کے میں گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔کوئی چوتھائی رستہ طے کیا ہوگا کہ دیکھا متقابل سمت سے میرے خالہ زاد بھائی سچودھری غلام نبی صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی سلطان علی اور میرے بھائی شکر اللہ ناں اور عبد اللہ خاں اپنی گھوڑا گاڑی یہ آر ہے ہیں انہوں نے مجھے تانگے پر میٹھے ہوئے پہچان لیا۔گاڑی ٹھہرائی اور شوق سے لپک کر میرے ساتھ مصافحہ کیا اور مجھے تانگے ہی میں چھوڑ کر گاڑی واپس کر کے تیزی سے گھر کو لوٹ گئے۔انہیں شوق تھا کہ وہ جلادی گھر پہنچ کر والدہ صاحبہ کو میرے آنے کی خبر دیں۔ان دنوں رواج تھا کہ جب کوئی تو جوان انگلستان یاکسی اور بیرونی ملک سے تعلیم کی تکمیل کر ک واپس آتا تو ریلوے سٹیشن پر اس کا استقبال کیا جاتا۔والد صاحب کی بھی خواہش تھی کہ میری واپسی پر اب انتظام کیا جائے۔لیکن ان کی خواہش دلکی لچھیں رہ گئی۔میرا خط ملنے پر والد صاحب نے قیاس کیا کہ میں انگلستان سے روانہ ہونے کو ہوں والدہ صاحبہ