تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 111 of 736

تحدیث نعمت — Page 111

سے لوٹا دیا جاؤں تو کونسا دروازہ کھٹکھٹاؤں۔آپ پڑھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ شعر تو اللہ نے تعالی ہی کے شایان شان ہے۔ہاں اگر آپ کو اتناہی شوق ہے تو جو پڑھنا چاہیں پڑھ لیں۔آپ کا لباس وضع قطع ، کھانا پینا نہایت سادہ تھے۔آپ نے علم وعرفان کے سمندر تھے۔طب میں ید طولی نہ کھتے تھے۔قادیان جیسی بستی میں رہتے ہوئے بھی غیرانہ جماعت امراء آپ کی خدمت میں طبی مشو سے کیلئے حاضر ہوتے تھے۔اور بڑی بڑی رقوم آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرتے تھے۔لیکن یان آپ غریب اور امیری کوئی تمیز ہوا نہیں رکھتے تھے۔آپ صبح جب مجلس میں رونق افروز ہوئے تو زائرین اور حاجتمند لوگوں کا تانتا بندھ جاتا۔کوئی نہ بانی گذارش کرتا کوئی تحریری - درس تدریس مطب ، خلافت کے فرائض کی سرانجام دہی ، وعظ و نصیحت سب جاری رہتے ، ہدیئے ، تخالف، نذرانے پیش ہوتے رہتے۔حاجت مندوں کی حاجت روائی ہوتی نہ ہی۔جس جیب میں ہدیوں اور تقدیرانوں کی رقوم بغیر انتفات کے رکھی جائیں۔اس میں سے سائل اور حاجتمند کی حاجت روائی کمال فیاضی سے ہوتی چلی جاتی۔خالی جیب ہی آکر بیٹھتے اور جہاں تک حاشیہ نشین اندازہ کر سکتے مجلس بدنتان کرنے پر خالی جیب کی تشریف لے جاتے۔میرے تجرمین دوست آسکر نے ایک دفعہ مجھ سے کہا میں چاہتا ہوں کہ تمہاری معاشرت کا اپنی معاشرت کے ساتھ موازنہ کروں۔تم اپنے ذہین میں کسی ایسی زندہ شخصیت کا نام رکھ لوجو تمہارے خیال میں تمثیل شخصیت ہو اور میں بھی ایک ایسی شخصیت کا نام اپنے ذہن میں رکھ لوں گا۔میں تم سے سوال کروں گا کہ فلاں حالات میں تمہارے تجویز کردہ شخص کا کیا طرز عمل ہوگا۔تم مجھے بتاتے جانا۔میں تمہارے جواب سے اندازہ کر سکوں گاکہ کس کا معیار بلند ہے۔جب میں نے انہیں بتایا کہ میں نے اپنے فرمین میں ایک شخصیت کا انتخاب کر لیا ہے تو انہوں نے سوال کیا کہ اگر ان صاحب کو کوئی شخص ملنے کے لئے آئے اور وہ اسے نہ ملنا چاہیں تو اطلاع ہونے پر وہ اسے کیا کہلا بھیجیں گے ہے۔میں نے کہا اول تو اطلاع کی ضرورت نہ ہوگی۔ان کا دربار عام ہوتا ہے۔لیکن اگر وہ کسی سے نہ ملنا چاہیں تو صاف کہیں گے ہم آپ سے نہیں ملنا چاہتے۔اس پر آسکر نے کہا تو پھر وہ بھیتے۔میں نے کہا کیسے ؟ کہا اسلئے کہ ہوشخصیت میرے ذہن میں ہے وہ صاحب اطلاع ہونے پہ کہلوا دیں گے کہ وہ گھر یہ نہیں ہیں اور یہ لفظاً صیح نہیں ہوگا۔انہوں نے دریافت کیا تمہا سے ذہن میں کون صاحب تھے ؟ میں نے کہا حضرت خلیفہ المسلح قتل میں نے پوچھا آپ کے ذہن میں کون صاحب تھے ؟ انہوں نے کہا میرے والد۔لندن سے وطن واپسی کے وقت میرے دل میں یہ بڑی حسرت تھی کہ اس ہمہ تن شفقت سہتی کا دیدار نہ ہو گا۔