تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 110 of 736

تحدیث نعمت — Page 110

کچھ ہدایات تحریم فرمائیں جو میں نے انہیں بتا دیں۔جن میں سے ایک جو مجھے یاد رہ گئی ہے وہ یہ تھی کہ پڑھتے وقت روشنی کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھیں بلکہ ایسے طور پر بیٹھیں کہ روشنی بائیں کندھے روشنی کے اوپر سے کتاب یا کاغذ پر پڑے شاید یہ بھی تحریر فرمایاکہ رات کو نہ تو پیٹ بھر کر کھائیں نہری عالی پیٹ سوئیں لیکن پختہ یاد نہیں کہ یہ ہدایت ان کیلئے لکھی یا کسی اور تعلق میں خاک رنے حضور سے سنی یا تحریر فرمائی۔اس کے بعد خاک رسے کو تا ہی ہوگئی کہ آسکر کے متعلق حضورہ کی خدمت میں اطلاع نہ بھیجی تو حضور نے خود کمال شفقت سے اپنے والا نا مے میں دریافت فرمایا کہ آپ کے دہ جرمن دوست کیا ہوئے؟ میں جب بھی انگلستان سے باہر سفر پر جاتا تو حضور سے اجازت حاصل کر کے جاتا۔حضور کا خاک در کے نام آخری شفقت نامہ وصال سے صرف چند دن پہلے کا لکھا ہوا ہے۔میں ایک نادان نوجوان تھا شدہ میں تو ابھی میری عمر بھی چودہ سال کی تھی۔آپ نے اس وقت کمال شفقت اور ذرہ نوازی سے میرے والد صاحب کو توجہ دلائی کہ مجھے اب بیعت کرنی چاہیے اور اسد ن سے حضورہ کے وصال تک یہ عاجز آپ کی پیہم شفقت اور عنایات کا مور دریا - فجزاه الله احسن الجزاء وجعل الله لجنة العليا مثواہ۔اور میری کوئی خصوصیت نہیں تھی۔آپ کے فیض کا چشمہ پر ایک کیلئے یکساں بہتا تھا۔اللہ تعالی نے اپنے فضل و رحم سے آپ ک شامانہ مرتبہ عطافرمایا تھا اور نہایت پر شوکت اور باغیب شخصیت عطا فرمائی تھی لیکن آپ کا دربارہ ہر کس و ناکس کیلئے کھلار مہتا تھا۔ہر کہ خواہد گو بیا و ہر کہ خواہد گو به دو والی کیفیت تھی۔گیرد وارد حاجب و در بال در ریس در گاه نیست آپ کی بڑی صاحبزادی آپ کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں بیعت ہونے سے بہت پہلے مولوی عبید احمد صاحب غزنوی امرتسری کے عقد میں آئی تھیں۔ان کے صاحبزادے مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی آپ کے نواسے تھے بی اے میں جب میں بی اے کا امتحان دینے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر تھا وہ بھی امرتسر سے تشریف لائے۔پہلے بھی آیا کرتے تھے گو سلسلہ سے منسلک نہ تھے۔ابکی بارا انہوں نے آپکی خدمت میں گذارش کی کہمیں کچھ عرصہ مھم کہ آپ سے علم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا تیک چاہیں ٹھہریں۔لیکن جو علم آپ پڑھنا چاہتے ہیں وہ آپکے گھر مں بھی بہت ہے۔اس پر انہوں نے ایک رقعہ لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کیا جس میں اپنی درخواست دہرائی اور عربی کا ایک شعر لکھا میں کا ترجمہ یہ تھا۔تیری بخشش سے بہت بعید ہے کہ تو ایک نافرمان کو مایوس کرے اور اگر میں تیرے دردانہ تو اور