تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 109 of 736

تحدیث نعمت — Page 109

1۔9 بلجہ کے لوگ بھی برطانیہ آنا شروع ہو گئے۔ہمارے لندن سے روانہ ہونے سے عین قبل امیوں سے پہ جرمنوں کا قبضہ ہو گیا تھا۔۔تھا ایل ایل بی کا آخری امتحان اللہ تعالیٰ کے فضل سے امتحان میں میرے پرچے بہت اچھے ہو گئے۔الحمد للہ۔پانچے پرچے تو پانچوں مضامین میں پیاس کے درجے کے تھے اور چار مضامین میں چارہ پرچے آنماز کے درجے کے تھے مجھے کسی سوال کے جواب میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔جہاں۔ممتحنوں نے اختیار دیا تھا کہ سات سوالوں میں سے پانچ کے جواب لکھو۔دہاں مجھے سونچنا یا کہ کو نسے پانچ سوالوں کے جواب لکھوں۔کیونکہ فضل اللہ سب سوالوں کے جواب آتے تھے۔میں سوالوں کے جواب لکھنے سے پہلے ہر سوال کا جواب لکھنے کیلئے وقت مقرر کر لیا تھا اور اس تقسیم وقت کے مطابق جواب لکھتا تھا۔اس طریق سے مجھے بہت سہولت رہی۔امتحان کے ٹال میں ہمارے سامنے ہی بیٹا اکلاک لگا ہوا تھا جس سے وقت کی کہ ختار معلوم ہوتی کہ متی تھی کبھی کبھی یہ خواہش بھی ہوئی کہ وقت کی رفتار ذرا آہستہ ہو جائے۔تاکہ سوالوں کے تفصیلی جواب لکھے جاسکیں۔مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے امتحان کے کمرے میں کبھی ممتحن کی مراد سمجھنے یا سوال کی تہ تک پہنچنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔میں ہر امتحان میں پہلے تو سوالات اطمینان سے پڑھنا اور ہر سوال کا پورا مطلب سمجھ لینے کے بعد جواب لکھنا شروع کرتا۔اس سے بھی مجھے ہمیشہ بہت فائدہ ہوا۔ایل ایل بی کے آخری امتحان میں میرے پہنچے تسلی بخش ہوئے اور میں انگلستان سے اس اطمینان کے ساتھ رخصت ہوا کہ جہاں تک میرے بس میں تھا میں نے اللہ تعالی کے فضل اور اسکی عطا کردہ توفیق سے اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کیا ہے۔میرا دل اللہ تعالی کے شکر اور اس کے فضل اور ذرہ نوازیوں اور عنایات کے احساس سے پہر تھا۔فالحمد للہ۔حضرت خلیفہ المسح اول کی مشفقانہ عنایات لندن کے قیام کے دوران میرے لئے یہ احیا ہیں بہت تسکین اور اطمینان کا موجب لہ پا کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول اور میرے والدین میری حفات اور ترقی کے لئے بہت دعائیں کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول میرے ہر ع لینے کا تو اپنے مبارک قلم سے لکھتے اور اس میں بڑی شفقت کا اظہار فرماتے۔خاکسانہ بھی اپنی ہر دلچسپی کا اظہار حضور کی خدمت میں۔و بلا تکلف گذارش کر دیا۔ایک دفعہ میرے عزیز دوست مسٹر سکہ بہ نگر نے ذکر کیا کہ میرے اعصاب لو تھ محسوس ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے میں پوری توجہ سے مطالعہ نہیں کر سکتا اور نیند بھی اچھی طرح نہیں آتی۔میں نے حضور کی خدمت میں گزارش کر دیا۔حضور نے کمال شفقت سے ان کیلئے