تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 102 of 736

تحدیث نعمت — Page 102

1 i ہنر زیادہ تر یہودیوں کے ہاتھوں میں تھے۔لیکن اب یہ فن ایمسٹرڈیم کے ساتھ مخصوص نہیں رہا۔ایمسٹرڈیم میں ہم بڑے ریلوے اسٹیشن کے قریب ہی ایک نہایت صاف آرام دہ بور ڈنگ ٹاڈس میں ٹھہرے جہاں ہماری سب ضروریات کا سامان مہیا تھا۔ہالینڈ فن مصوری میں ایک تاریخی اور ممتانہ حیثیت رکھتا ہے۔اس فن کے سر سے مشہور پولیندی فنکار مشہور عالم رامبراں تھے ان کا سب سے بڑا شہ کا نہ دی نائٹ راج " ایمیٹر ڈیم کے میوزیم میں ہے۔یہاں ہالینڈ کے دیگر مشہور مصوروں اور خود را مبران کے فن کے بہایت دلکش نمونے کثرت سے جمع کئے ہوئے ہیں۔یہ عجائب گھر ایمیٹرڈیم کی سب سے ممتانہ قابل دید جگہ ہے۔ہالینڈ میں ہم نے دیکھا کہ مریم بعض دفعہ ایسی جگہ بھی کھڑی ہو جاتی یہاں کوئی سوالہ ہونیوالا یا اترنے والا نہ ہونا۔البتہ لائن کے ساتھ تازہ دودھ کے کنتر رکھے ہوئے ہوتے جن کے ساتھ لیبل لگا ہوتا۔ٹیم کا کنڈکٹر یه کنستر اٹھا کر ٹیم میں رکھ لیتا۔ٹالینڈ میں ہر قسم کی کاروباری دیانت اور امانت کا معیار ان دنوں بھی بہت بلند تھا اور اب بھی اسی درجے پر ہے۔اگرچہ یورپ کے بعض اور علاقوں میں وہ صورت قائم نہیں رہی۔ہیگ | ہماری ایسٹر کی تعطیلات سے اب صرف ایک دن باقی تھا۔مجھ ہم نے ہینگ کی سیر کے کیلئے رکھا تھا۔لیکن مسٹر یوسف امام آکسفورڈ سے اتنے لمبے عرصے کی جدائی سے افسردہ ہو گئے تھے اور انہوں نے فورا واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔دوسری صبح میں اکیلا ایمسٹرڈیم سے بیگ گیا اور بیگ اور سخے دے تنگن کی سیر میں دن گزار کر شام کو ایمسٹرڈیم پہنچا اور اسی رات کے جہانہ پر لندن واپس چلا گیا۔ہیگ میں بھی ان دنوں ابھی سٹیم ٹریم چلتی تھی شہر کے اندر PEACE PALACE دیکھا جس کی کار نیگی فونڈیشن کے اہتمام کے ماتحت دو سال قبل ہی تکمیل ہوئی تھی۔جیسا کہ فونڈیشن کے نام سے ظاہر ہوتا ہے اس عمارت کے مصارف کیلئے اور فونڈیشن کے قیام کے لئے روپیہ سٹراینڈریو کارنیگی نے عطا کیا تھا۔مسٹر کا رنگی ایک مفلس سکاچ گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔مدر سے جانیکے لئے انہیں کئی میں ننگے پاؤں سردیوں میں برف پر چل کر جانا پڑتا تھا۔ذرا بڑے ہوئے تو امریکہ چلے گئے وہاں آہستہ آہستہ اپنی صنعت میں اقتدار پیدا کیا اور کروڑ پتی ہو گئے۔اپنی دولت کا بہت سا حصہ انہوں نے امین عالم کے استحکام ، عام انسانوں کی معاشرتی بہبودی اور اپنے اصل وطن سکاٹ لینڈ کے نادار طلبا کی تعلیم اور وہاں کی یونیورسیٹوں کے مختلف شعبوں کی ترقی کے لئے وقف کر دیا۔نیویارک کا کارنگی بال اور وہاں کی کارنیگی : اور میگ کی کا رنگی IENDOWMENT FOR PEACE