تحدیث نعمت — Page 85
۸۵ پڑھے ہوئے تھے لیکن ہم نے اسے ایک دلچسپ شہر پایا۔جس میں جگہ جگہ پر مشرق و مغر کے امتزاج کی بہت و غریب تھلک نظر آتی تھی۔تو سکی میں ایکٹ کے عین وسط میں نہار سکندر ثالث کا یاد گارہ رنگا رنگ گنبدوں والا گر یجا تھا۔دریائے نینوا کے اس پار پطرس اور پولوس کے قلعے کے بالمقابل ایک عالیشان مسجد نئی تعمیر ہوئی تھی۔گو اس کی اندرونی تکمیل بھی جاتی تھی ہم اسے دیکھ دیکھنے گئے۔ایک مزدور مسجد کے احاطے میں کام کر یہ نا تھا۔میں نے اس سے سوال کیا :- مسلمان ؟ اس کا چہرہ کھل گیا اور زور سے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے کہا۔دا - دا - الحمدالله میں نے کلمہ شریف پڑھا۔اس نے دہرایا۔جانبین نے پہچان لیا ہم بھائی بھائی ہیں۔سینٹ آئزک کا گر جاتو ہمارے ہوٹل کے سامنے ہی تھا اس کی عمارت تو مغربی طرنہ کی ہے۔لیکن اندر مغربی تو ممالک کے گھر جوں کی طرح نشستوں کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔لوگ دوران عبادت کھڑے رہتے۔اور یا پھر گھٹنوں کے بل ہو جاتے۔نشستیں نہ ہونے کی وجہ سے روسی گرجے اندر سے اسلامی مساجد سے کچھ مشابہت رکھتے لیکن یہ مشابہت یہیں پر ختم ہو جاتی تھی۔کیونکہ روسی گر توں میں دیواروں اور چھت پر مذہبی مقدس تصاویر بنی ہوتی تھیں اور جا بجا آئی کانز کہ کھلے ہوتے تھے۔ہم نے گرتے میں گئی آئی کا نز دیکھے جن کی قیمت کا اندازہ کرنا ہمارے لئے مشکل تھا۔ایک میں حضرت مریم کے دل کی جگہ ایک بڑا العمل جڑا ہوا تھا آنکھیں بڑے بڑے سبزے یا زمرد کی تھیں بعض چوکھٹے سونے کے معلوم ہوتے تھے۔واللہ اعلم با الصواب۔ہ میں پیٹرنہ برگ رحال مین گراڈ میں مسلمانوں کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ تھی ان میں سے اکثر نا نا رہی تھے جو ہ دوسی امراء کے محلات میں پہرے اور نگرانی پر متعین تھے۔آکی یہ وجہ بتائی جاتی تھی کہ چونکہ وہ شراب نہیں پیتے اسلئے پرے اور نگرانی کے فرائض بہت اچھی طرح نبھا سکتے ہیں۔پچاس سال بعد جب میں اس شہر میں دوسری دفعہ گیاتو اگر چہ میرا قیام ایک ہی دن کا تھا لیکن میں مسجد کو بھی دیکھنے گیا۔مسجد آباد اور نہ یہ استعمال تھی مسجد اندر سے تو اچھی حالت میں تھی لیکن احاطے میں نشیب و فرا نہ تھے اور مرمت کی ضرورت تھی۔امام صاحب اس وقت کہیں باہر تشریف لیگئے ہوئے تھے اسلئے ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔پیٹرز برگ رحال لینن گراڈا میں سے بڑھ کر قابل دید مقامات ونٹر سپلیس (سرمائی محل ، اور ہر میچ ہیں یہ دونوں محملات دریائے نیوا کے کنارے ایک دوسرے سے معلق واقعہ ہیں اور کیتھرائن اعظم کی یاد گار ہیں۔اب تو یہ دونوں عمارات عجائب گھر میں اور عجائبات سے بھری پڑی ہیں۔شاہ