تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 77 of 736

تحدیث نعمت — Page 77

44 اس کے اندر بھی دھواں بھر جاتا تھا جو بہت تکلیف کا باعث ہوتا تھا۔اب سارے سوئٹزرلی ریلین بجلی سے چلتی ہیں اور دھوئیں کی اذیت سے مخلصی ہو گئی ہے۔ہم چند گھنٹے لوزان میں ٹھہرے یہ بھی اپنے نام کی تھیل کے کنا سے ایک بہت پر فضا مقام ہے۔اس جھیل کے ارد گرد بہت سے مقامات سیر کے میں جنہیں دیکھنے کا بعد میں اتفاق ہوتا رہتا ہے۔اس سفر کے دوران میں ایک خاتون بنام مسرویٹ سے تعارف ہوا ہو یارک شائر انگلستان کے علاقے میں لیڈنہ کے مضافات کی رہنے والی تھیں وہ بیوہ تھیں اور متوسط درجہ خوشحال تھیں۔انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں گرمی کی تعطیلوں میں ایک دو دن کیلئے ان کے ہاں آؤں گا۔میں وعدہ کے مطابق ان کے ہاں گیا۔بہت تواضع سے پیش آئیں۔ان کے ملنے والوں میں سے ایک ڈاکٹر یا ئیڈ تھے میری بھی ان سے ملاقات ہوئی۔باتوں باتوں میں کچھ عقائد کا ذکر بھی آگیا۔میں نے تثلیث کے عقیدے پر کچھ تنقید کی تو انہوں نے مسکرا کر کہا میں تو پہلے ہی اس عقیدے کو خلاف عقل سمجھتا ہوں۔مجھے یہ سنکر حیرت ہوتی کیونکہ اس وقت تک میں میں سمجھتا تھا کہ ہر یورپین عیسائی عقائد میں پختگی سے تثلیث اور کھائے اور الوہیت سیح پھر قائم ہے۔لندن میں ہمارے گھر میں بھی بعض دفعہ عقائد اور دینی اور روحانی اقدار پر گفتگو ہوتی تھی۔ایک دن میں اپنے کمرے میں مطالعہ میں مصروف تھا کہ مجھے مستر قائدین اور میس پارسنز کے باتیں کرنے کی آوانہ سنائی دی۔وہ تمھیں تو میرے کمرے سے ایک منزل نیچے لیکن کمرے کے اندر سنہیں تھیں۔اور ان کی آوازہ مجھے تنک پہنچ رہی تھی۔شاید انہیں یہ خیال بھی نہ ہوکہ میں اپنے کمرے میں ہوں۔میں نے سر فائندن کا یہ فقرہ سنا تو کچھ یہ کہتا ہے اسے تو یہی معلوم ہوتا ہےکہ اسلم کی تعلیم عیسائیت کی تعلیم کے مقابلہ میں زیادہ عقول ہے۔یہ مس پارسنز نے جواباً کچھ کہا لیکن میں اسے سن سکا۔میری بیوی پر مولانا اشرار گیا کہ انہیں سر ماندن کے ساتھ اتفاق نہیں تھا۔ایک دن کھانے کے کمرے میں کسی دینی موضوع پر گفتگو پوری بھی مس پارسنتر کو مسئلہ زیر بحث پر کوئی جواب توین نہ آیا لیکن کہا۔میں اپنے عقائد کو دلائل سے ثابت کر سکوں یا نہ سکن میں ان کے لئے جان دینے کو تیار ہوں۔مجھے ان کے اخلاص کی یہ کیفیت بہت پسند آئی اکثر لوگ عقائد پر بحث کرنے میں تو بہت تیز ہوتے ہیں لیکن ان کا عمل ان کے دعاوی کی تصدیق نہیں کرتا۔مس پارسنز سے یہ فقرہ سن لینے کے بعد میں اس بات کی بہت احتیاط کرتا تھا کہ مذہبی امور پر گفتگو میں کوئی بات ایسے الفاظ میں اور ایسے طریق پر نہ کی جائے جو ان کے احساسات پر گراں ہو۔