تحدیث نعمت — Page 67
مہک تو بالکل نہیں تھی لیکن رنگ بہت خوشنما تھا۔دورات اور ایک دن یہاں گزار کہ ہم عام مارو کے بہانہ سے یہ گن واپس آگئے۔یہاں سے پارٹی کے بعض افراد ریل پر آسکو پچھلے گئے اور باقی میں رستے سے آئے تھے انگلستان واپس ہو گئے۔میں ہل سے بذریعہ ریل ایک ڈسٹرکٹ کے علاقے میں نسٹن چلا گیا اور مسٹر اور مسز کو وارڈ کے ہاں ٹھہرا۔چند دنوں کے بعد مسٹر محمد حسن بھی لندن سے آکر میرے ساتھ شامل ہو گئے۔ہمارا یہ معمول ہوگیا کہ ہم ناشتے اور دوسپر کے کھانے کا درمیانی وقت تو مطالعہ میں صرف کرتے اور دوپہر کے کھانے کے جلد بعد سیر کے لئے نکلتے۔آٹھ دس میل تیز پینے کے بعد کہیں چائے کے لئے ٹھہرتے اور وہاں سے واپس آجاتے۔شام کا کھانا گھر پہنچ کر کھاتے انگلستان کے مشہور فلاسفر ریکن کامکان تجھیل کانسٹن کے کنارے پر واقعہ ہے۔ایک دن تم نے ائیر پر جھیل کی سیر کی اور اس مکان کے قریب سے گذرے جب کانسٹن میں ٹھہرے ہوئے ہم قریب کے مکانات دیکھ سکے تو ہم نے اپنی جائے رہائش کر اس میر میں منتقل کر لی۔یہ جگہ لیک ڈسٹرکٹ کے وسط میں ہے۔اور ایک خوبصورت وادی میں واقعہ ہے۔مشہور عر ولیم ورڈ سورتھ نہیں رہا کرتے تھے۔ہمارا امکان ان کی جائے کہ ہائش روز کالج کے بالکل قریب تھا جیسے ورڈ سورتھ کے مداح بڑی تعداد میں ہر روز دیکھنے آتے تھے۔گو اس میٹر تک ریل نہیں آتی تھی۔قریب ترین ریلوے اسٹیشن آٹھ میل کے فاصلے پر تھا۔ہمارے مکان میں ایک خادمہ ایسی بھی تھی میں نے ابھی تک ریل نہیں دیکھی تھی۔اگر چہ بائیکل اس کے پاس تھی اور اگر چاہتی تو اتوار کے دن آسانی سے سہ پہر کے دوران میں اس کمی کو پورا کر سکتی تھی۔لیکن ایک لحاظ سے خوش سخت تھی کہ اس کی تمام دلچسپیاں اس کے گاؤں تک محدود تھیں اور وہ اپنے حال میں خوش تھی۔بڑی بشاشت سے اپنے فرائض کو سرانجام دیتی تھی ہم نے کبھی اس کے چہرے پر ملال یا افسردگی کے آثار نہ دیکھے۔گر اس میٹر سے تین چار میل کے فاصلے پر شمال مشرق کی طرف ایک پہاڑ ہے۔ہم نے سر ہو گنوک کا واقعہ سنا ہوا تھا۔اور نظم میں تھی پڑھا تھاکہ ایک سر پر وہ اس پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے شوق میں نکلے۔ان کا کتا بھی ان کے ساتھ تھا۔ہوٹی پر پہنچے تو ایک ایک ایک یہ خانی با دل نمودار ہوا۔برف گرنا شروع ہوئی اور راستہ دیکھنا دشوار ہوگیا۔پہاڑ کی چوٹی پر کسی قسم کی اوٹ یا جائے پناہ نہ تھی۔بہ باری بڑھتی گئی اور ساتھ ہی سردی کی شدت بھی پڑھتی گئی اور اندھیرا ہونا شروع ہو گیا۔سر سویٹ گئے اور ان کا کتا ان کے اوپر لیٹ گیا کہ اپنے جسم کی عمارت سے اپنے آقا کے جسم کو گرمی پہنچا سکے لیکن۔۔" بہ خباری تمام رات جاری رہی اور صبح ہونے تک آقا اور کتا دونوں مرچکے تھے۔سال بھر میں متعدد