تحدیث نعمت — Page 693
سی دن مہم مکہ معظم میں حاضر ہوکر فضل الہ عمرہ سے شوہوئے اور پر جدہ واپس آگئے۔اگر وجود میں ٹرک تشریفات تشکی ے ساتھ پروگرام کیا۔پاکستانی سفارتخانے میں عار محور ریفر کیا ان کے فرانس نیاز حاصل کیا۔انمیں سے دو صاحبان شیخ اعزانه بیان صاحب افسر جم در سید اشتیان حسین صاحب مدیر ثالث وزارت خارجہ میں میرے رفیق کا رہ چکے تھے۔ابھی پہلے کی تواضع کے ساتھ پیش آئے اور انتظامت حج کے سلے میں مارا آرام کام ہے نام اللہ خیرا کو معبد سے کار پر مین منوره حاضر ہوئے اور اتک مال قیام کیا، مادر جا تا مسجد نبی سے ندیم کے فاصلے پر تھی اس سہولت کی وجہ سے می لیلا اوقات میں عدم حاضری اور نا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ل یہ دل کے روضہ مبار اور تصور کے مبر کے درمیان نوافل اداکرنے والوں کا ہروقت اسرار اور رہناتھاکہ میں خدشہ ہوا کہ ان ایام میںاس مبارک ا رول ادا کرنے اور ا کرنے کی تر دل میں بارہ جائے ا ا ا ا ا ا ا ا ا رمان نوازی سے یہ موقع بھی افرات ایا میری بیوی کی وجہ سے جد کی صفائی کے مات خاص نظام کرنا پڑتا ہے اسے سی الف ب سے لیکر تین گھٹے کیے ند کر دی جاتی ہے اور اس دوران میں خدام مسجد کی صفائی ستھری کے ساتھ مل کرلیتے ہیں۔اور کی شام کو نمایند تشریفات نے میں مطلع کیا کہ وہ نصف شب کے وقت تشریف لاکر ہی مسجدکے ان سے ملیں گے اور بقدر مہم چاہیں نال اور د عامی رف کر سکیں گے۔چنانچہ دونوں رات ہیں یہ موت نصیب ہوتا تا احمد اور مدینہ منورہ سے جدہ واپسی ہوئی بار کریم پر مکہ معظمہ حاضر ہوئے اور عمرہ اور مناسک اداکئے ، کومکہ معظمنتقل ہوگئے۔اس کی شام کو الہ الملک فیصل کیطرف سے انتقالی دعوت تھی۔عزیز اور امداد میں بھی دعو تھے۔علاقہ الملک نےاپنی تقریر می قضیه مین کا ذکر فرمایا اور صراحت فرمائی کهانا کام توی یه ہے کہ جو عناصر کی بیرون مین سے میں میں داخل ہوئے ہیں وہ میں سے نکل جائیںاور من کی رعایا بر کسی بردنی تداخل کے آزادانہ اپنے مستقل کا فیصلہ کرے مزید فرمایام اعلان کرتے ہیں اور آپ سب کو اس پر گواہ ٹھہراتے میں یمنی رایا تو ایلیا کی کسی بیرونی داخلی کسی جھر۔مکہ میں خصوصی مہمان تھے۔انہوں نے بھی حاضرن کو خطاب فرمایا۔طلا سے فراغت پری نے زینہ اور احد کو لالا ملک کی خدمت میں پیش کیا۔مگر معظم منتقل ہوتے پیر صاحبزادہ مرزا رفیع حمد اب کی قیام گاہ پلا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔صاحبزادہ صاحب کراچی سے اس پر دان میں عمدہ تشریف لائے تھے جس پر ہم نے سفر کیا تھا۔جدہ پہنچتے ہی آپ مکہ منظر حاضر ہو گئے تھے۔آپ نے ان احباب جماعت احمدیہ کی فرست تا کاری جو فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے آئےہوئے تھے۔اس فہرست کی تکمیل پر معلوم ہو کہ اس سال بفضل الہ ایک سوسے زائد حمد احباب نے فریضہ حج کی سعادت اصل کی الحمدللہ ان میں ایشیا افریقہ یورپ سے آنیوالے اداپ ال تھے۔میک ہے کوئی دوست امریک سے بھی تشریف لئے ہوں لیکن مجھ اس کاعلم نہیں کہ نظم میں امام الحرم بوی تا جا کے کعبہ شریف چند دم کے فاصلے پرے نے رات کا ر ت مو لانا اور ان کی تونین پائی ا ا ا ا ایرانی کی جو میں کی حوس نہ اور ان سےہی اور ان کے