تحدیث نعمت — Page 692
۶۹۲ ابھی اتفاق ہوا۔جنوبی وزیری کا مارا شیر ENS TO ہے۔میاں کے مال سے قطب جنوبی کےعلاقے میں مقیم نسدانوں کے ساتھ رابطہ نام رکھاجاتاہے۔میں جنوبی وزیر سے انکی واپسی کے لئے مار پر نظرات اور کسی کتاب کے طالع میں مصرف تھا کہ ایک صحب تشریف لائے اور فرمایا الان و یا اقرار کرنے پر راما ای جی این اتفاق ہے میں انڈونیشیا ایک طال علم میں سیال ENS TOWN کی یونیورس میں یا اعلی تعلیم کے لئے آیا ہوں۔میں نے بیا ی دریا میں اسلام پرتمہاری کتب دیکھی اوراسے خرید کران دو اس کا مالک کر رہا ہوں، کتاب اس وقت بھی میرے ہی سے س پر تل کر دو۔میں نے خوشی سےان کے ارشاد کی تعمیل کی انہوں نے بڑی سادگی سے رام اللہ تعالی انہیں اس کتا ہے لکھنے کی بہت بہت نیک بنیا دے۔میرے دل سے ان کیلئے دعا کی اور الا ان یکی از پر میرا سحر میں گیا اللہ تعالی نے اپنے اس عاجہ بندے کو اکیلے پن کی گھڑی میں کسقدر دلکش ہدیے سے نوازا۔سجدت لک رومی و جنانی۔ویلنگٹن سے میں سنی یا ان کی دنیا کا نام اور عالم ہے ہوائی جہاز سے ای ای سیو و این زمین پر کوئی ایسی غیر معمولی ان دکھائی نی اگر ان پر جانے کا وقعہ ہوتا تو شاید و کیفیت ہوتی سون میں چند گھنے قیام کے بعد ہوا مہا سے CAN BE A پلا گیا نی بڑی آبادی کا شہر ہے۔لیکن کوئی شان یا عظمت نظرنہ آئی میرا ایمان اختر کا اس کے تنے میں مجھے اندازہ بھی نیست ح ھا۔کینبرا نو ماشہ ہے۔نقشہ بہت وسیع ہے سٹرکیں فراغ ہیں اس منت اور بہتر ہے۔ہر اول اور دیگی دل کو بھاتی ہے ی مکھیوں کی بہتا ہے جوبہت موٹی میں کینیا میں رانی پاکستان ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ایران است عزیز دوست ہیں میں نے ان کے ہاں بہت آرام پایا اللہ علی اپنے فضل سے انہیں بہترین خیر عطا فرمائے آمین۔کیا کے قیام کے دوران میں جناب وزیر اعظم سرا بیٹ مین ین سے ملاقات ہوئی مین کے ساتھ عرصہ سے میرے سوتانہ تعلق ہیں سر جیمز پیسوں سے بھی ملا تو اس زمانے میں اقوام متحدہ میں آسٹریلیا کے مستقل نمائیندے تھے جب میں دیہاں پاکستان کا مستقل نمائندہ تھا۔گورنہ منبرل ارد کیس سے میرے دوستان تا ویسے ہیں۔انہوں نے ایران ایران اورنگی یاران ایدی اتار کرنے میں لگات نونی یا مرنے کے بعدمیں صبح دی کالری پہنچ گیا۔حج بیت اللہ شریف کی سعادت چونکہ عالمی حالت میں میرا تقریر فروری ماہ سے عمل میں آنا نظامی نے اقوام متحدہ میںپاکستانی سفر کے منصب کا چاندج در فروری کشتہ کو چھوڑ دیا۔عدات میں دوبارہ تقریر کے دیگر فواد کے علاؤ یک نعمت ملی تو حاصل ہوئی وہ یہ تھی کہ از شادی میر ایک دینی محض اللہ تعالی کے فضل اور اس کی ذرہ نواندی سے بر آئی۔فالحمدلله حمداً کثیراً طبیب مبارکا فیہ۔حسن اتفاق سے عزیز انور احمد اور عزیزہ امینہ 1944 1975 ا ساتھ بھی میرا گیا جن کی رفاقت کی وجہ سےمجھے بہت آرام ملا فجزاهم اللہ خیرا۔ہم کراچی سے ارمار اور جمعہ کے دن فجر کے وقت روانہ ہوئے اور دس بجے قبل دو پر خیریت جدہ پہنچ گئے۔تشریفات ملکیہ کی طر سے ہماری رہائش کا انتظام جدہ میں موٹ میں کیاگیا تھا جو امرکی طرز کا نہایت عمدہ آرام دہ ہوئی ہے۔