تحدیث نعمت — Page 53
AF سے باہر رہائش ہونے کی وجہ سے پاس نہیں کئے تھے۔لندن داخلہ مل سکتا تھا اسلئے یہاں آگئے اور لندن پر یلیز سے کچھ دور بھی نہیں تھا۔یہ سب تفاصیل بیک وقت نہیں بلکہ دو تین ملاقاتوں کے دوران معلوم ہوئیں۔انہوں نے اپنے خاندانی رہنے کا خود کوئی ذکر نہیں کیا تھا اور مجھے بھی کوئی ایسی دلچسپی ان امور سے نہیں تھی۔ہماری واقفیت کو شروع ہوئے چار پانچ مہینے ہو چکے تھے اور ملاقا تنوں اور خط و کتابت کا سلسلہ قائم ہو جوکا تھا کہ ایک صبح ڈاک آنے پر مسٹر با دوش (جو اس وقت تک منتر فائرن کے ہاں اگر مقیم ہو چکے تھے نے جاکر ڈاک دیکھی اور میرے خط لا کہ مجھے دیدیئے۔ان میں ایک خط آسکر کا بھی تھا۔جب میں وہ خط پڑھ چکا تو مسٹر بارش نے کہا یہ لفافہ مجھے دکھاؤ۔میں نے انہیں لفافہ دیدیا۔اس کی پشت پہ ایک کریسٹ تھی اور اس کے نیچے حروف وی اے تھے مسٹر بارش نے کچھ حیرانی سے پوچھا تمہیں معلوم ہے کہ مسٹ یہ نلہ فرائی ہر ہیں ؟ میں نے پوچھا وہ کیا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا جر من نو ملٹی کا ایک درجہ ہے جیسے انگلستان میں والی کونٹ۔پہلے دن جب آسکر ہمارے ہاں آئے اور دراصل میں ہماری پہلی ملاقات تھی تو انہوں نے میرے سیاست بھی دریافت کئے۔اور یہ بھی دریافت کیا کہ تمہارا مذہب کیا ہے۔میں نے بتلایا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے جو اس سے انہیں کچھ تسلی ہوئی۔بعد میں میں نے ان سے اس سوال کی وجہ معلوم کی تو انہوں نے کہا کہ میں یہودیوں کا مداح نہیں اور میں اطمینان کرنا چاہتا تھا کہ تم من سبا یہودی تو نہیں۔وہ قریباً دو نے ٹھرے اور یہ معلوم کرکے کہ منگل اور جمعرات کو میرے لیکچر نگرہ کالج میں چھ بجے شام شروع ہوتے ہیں انہوں نے کہا میرا آخری لیکچر پانچ بجے ختم ہوتا ہے۔اورمجھے کچھ دیہ لائبریری میں کام کرنا ہوتا ہے یتم چھ بجے سے کچھ پہلے پہنچ جایا کرو اس طرح ہمیں ہفتے میں دو بار چند منٹوں کے لئے کالج میں ملنے کا موقعہ مل جایا کریگا۔ہنتے یا اتوار کے دن اور بعض دفعہ دونوں دن وہ مجھے ملنے کیلئے ہمارے مکان پر آجاتے۔ان کی درستی اور یہ فاقت میرے لئے ایک نعمت تھی۔وہ میرے قیام انگلستان کے عرصہ میں میرے لئے ایک نہایت شفیق بھائی ثابت ہوئے۔بجز اء الله فی اللہ ارین خیرا وہ اللهم الرزقني جليساً صالحا راے اللہ مجھے صالح ہمنشیں عطا فرما) کی قبولیت کا عملی ثبوت تھے۔دوستی کا جو عہد انہوں نے شملہ میں باندھا اسے آخر تک نبھایا۔یہ عرصہ چالیس سال سے کچھ اوپر تھا۔چودھری شمشاد علی صاح بجے شروع جنوری ۱۹۱۱ء میں میں نے ایک خواب دیکھا کہ کسی نے متعلق میرا ایک خواب مجھے ایک کاغذ کا پرزہ دیا ہے جس پر یہ عبارت لکھی ہوئی ہے۔دیا شمشاد علی خاں جس کی ذات کے ساتھ اتنی امیدیں وابستہ نھیں ۶ ار ماہ مال کو چل بسا۔اسے نوٹ کر لیں