تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 662 of 736

تحدیث نعمت — Page 662

زبان زد عام مغربیت در بارہ بادہ نوشی کے رجس کا میری موجودگی میں توان کی طر سے کوئی اظہار نہ ہوا مجھے اکیش شخصیت قابل قدر نظر آئی اور بعض لحاظ سے ان کی بے بسی کی وجہ سے ان کے ساتھ ہمدردی محسوس ہوئی۔چند سال بعد نئے آئین کے بائر یں ان کا ڈا کٹا بوٹے کے ساتھ اختلاف ہو گیا اور ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اوراب نا چار انگلستان میں مقیم ہیں۔کمالہ اپنے مقام وقوع کے لحاظ سے ایک خوشنا مقام ہے۔آب دیوا معتدل ہے۔جو ادارے دیکھنے کا اتفاق ہوا، مثلا کا بیج ہسپتال، ایران و فانی پارلیمنٹ وغیر ان سے اور بازاروں، سڑکوں، باغات سے مجھے نماز واکہ یوگنڈا شاہراہ ترقی پر گامزن ہو چکا ہے اور علی علیہ ترقی کی طرف قدم اٹھارہاہے مسلمان طبقہ کوبھی آبادی کے دوسرے طبقوں کی ماندانی تعلیمی ثقافتی اور اقتصادی ترقی کی طرف توجہ ہے۔نو تمیم شدہ جامع مسجد جو ایک پہاڑی پر واقع ہے نہایت نوشتا ہے۔قریب ہی المیہ سکول کی عمارات میں جہاں نا معدہ پانے پر چوں کی تعلیم ا انتظام ہے۔ان دونوں مقامات کو دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔بلدیہ کمپالہ کی طرف سے اعزازی ڈنر کا کے بعدی کی طرف امام کا ایک کھانے کا قریب کا انظم کیا گیا جس کی صدارت صدر بلدیہ مٹر پیٹل نے کی۔ان تقریر کے دوران میں انہوں نے فرمایا قریباً ۲۷ ۲۸ سال ہوئے میں نے + تسطه بمبئی یو نیورسٹی میں بی اے کا امتحان دیا تھا۔زبانی سوالات کو مجھ سے پوچھے گئے انہیں سے دو مجھے یاد رہ گئے ہیں۔ایک سوال تھا محبت کسے کہتے ہیں۔دوسرا سوال تا ظفراللہ خاں کون ہے۔پہلے سوال کا جواب تومیں نے یہ دیا کہ ھے ایک محبت سے وطہ ہیں پڑا اسلے میں نہیں بتاسکتا جب کسے کہتے ہیں۔دو سال کا جو میں نے دی ان ال ال مرکزی حکومت ہند کا ویہ ہے۔گو اس وقت یہ بے وقوع مرگ نای نفی کرمیری اور ہمارے شام کے محرم مہان کی کبھی ملاقات بھی ہوگی۔آج ۲۷، ۸ سال کے بعد شرقی افرایہ کے اس خوبصورت ہمیں یہ اتفاق کیا ہے میںنے این جوانی تقریرمیں مٹی مٹی کی میرانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہیں امید کرتا ہوںکہ اتنے عرصے کے بعد جہاں یہ اتفاق ہو گیاہے کہ میر صاحب کی اور میری ام ملاقات ہوگئی ہے وہاں اس درمیانی عرصے میں میٹر صاحب کو محبت سے بھی گہرا واسطہ پڑ چکا ہو گا اور آج وہ پہلے سوال کا جواب بھی ذاتی تجربے سے دینے کے قابل ہو چکے ہوں گے۔بلدیہ کا حال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔میر صاحب کئی منٹ تک مہمانوں کے کا قہقہوں کا نشانہ بنے رہے ! وزیر اعظم ڈاکٹر اد لوٹے کی وزیر اعظم ڈاکٹا لیٹے نے نیل پارلیمنٹری ایوان کے پانچے میں استقبالی ریموت طرف سے استقبالی دعوت کا انتظام کیا۔جس میں گورنہ جرال، وزرائے کرام ، روسائے شہر اور دیگر مریدین نے نے شرکت کی۔او یوگنڈا کے جنوب مغر میں روانڈا کامل ازرار تورکیا قوم متحدہ کی کیا حال کیا ا نا آزادی سے ہے تو قبیلہ روانڈ میں بر سر اقتدار تھاوہ اقلیت میں تھا۔آزادی حاصل ہونے پر سب اختیارات اکثرت کے ہاتھوں میں منتقل ہو گئے اور اکثریت نے اقلیت کو مبتلائے محبت کرنا شروع کر دیا جس کے نتیجےمیں اقلی کی ایک خاص تعداد وانا میں منتقل ہوگئی، یوگنڈا کی حکو نے