تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 652 of 736

تحدیث نعمت — Page 652

۶۵۲ سوس نہیں کرتے تھے۔ان کے پر عام طور پر یہ کام کیا جاتا تھا میں کمال اختیا را در دست ردی کی ضرورت ہو اور ضربات کافضل مقصود نہ ہو۔اتفاق اب ہواکہ جب صدر کینیڈی مجھے رخصتکرن کے لئے میرے ہمراہ ساتھ کے کرے میں تشریف لائے تو گورند ری میں ان سے رخصت ہونے سے اس کے میں تشریف را تھے انہیں ا ا ا ا و ر ی ی ی ن ر رایا اور میں ابھی بھی ظفراللہ کہا تھا کہ یہ شیر کے تلنے کا یہ نایت عمدہ موقعہ ہے اور آپ اس کے متعلق پوری کوشش کریں گے۔گور نرمیری تصفیے کا عین نے بالکل بے اعتنائی سے کہ میں وزیرا عظم نہرو اور صدر ایوب دونوں سے بات کروں گا۔میں نے کہاگر محض بات کرنے سے ا ہی نہیں ہلے گا صدر اور وزیراعظم ہند کی اس نے کام اس ای پر میں آپ کوشش کریں کہ وزیراعظم نہر اس قضیے کا عملی حل تلاش کئے جانے کی طرف توجہ دیں۔گورنہ پیری مین نے ایک مریضیا نہ مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔میں نے مجھے لیاکہ ان کے ہاتھوں تنقید کشمیر حرکت یں نہیں آئیگا۔میں صدر کینیڈی کا شکریہ ادا کر کے رخصت ہوا۔کی مسرمان را کفیلر کی خوش فہمی کچه دن بجای اور کے ما را در ایران ایران مجھے دور رکھنے کی دعوت دی نہیں بھی تیری میر تقیہ کیا کر تھی۔لیکن وہ میاں ہی بھولے امریکیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ان کا طریق عمل بہت سادہ تھا۔ہوئی فرمایا ہندوستان اس وقت مشکل میں ہے اور چین کے ہاتھوں آزردہ ہے۔اگر ہندوستان کی اس مشکل کے وقت صدر الیوب کوئی ا اقدام کریں جس سے ہندوستانیوں کا در خصوا وزیرارت کایقین ہوجائے تواسی کی جاتیہے کرنے کے دو می رود و او را نام دیا جائے گاور شماریگروں کا ہوجائے گا۔ان کی خوش نمی پرمجھے ماظ شیرازی کاری مصر یاد آتارا من در دارمت که تو اوران دیده ای - مرا کفیلر کی بیان کردہ مسٹر سہندوستان کے کرکے میرانیان کاری کا الزام تھا میرا کفیل نے کہا کرشنا مینین کی بد خلقیاں ہم نے ایک دن سر کی نانی کو بی بی کھانے پہ لا ا ا ا ا ب ہو ئے توہم نے دروازے پران کا استقبال کیا اور میںنے معذرت کی کہ انہیں اتنی دو شہرسے باہر آنا پڑا۔انہوں نے فرمایا بیشک بہت دور آنا پریا مرزا کفیل نے ایک واقعہ اور نایا کہ اچھے سامنے انہیں نیویارک میں پنے ہاں ۱۸ ایا ان کی تشریف آوری پرمیں نے نوشی کا ظہار کیا کہ ہمارے ساتھ اس شکرگزاری کی تقریب مں شام ہو سکے۔انہوں نے THANKS GIVING THANKS جواب میں فرمایا جو WHAT HAVE YOU TO BE THANKFUL FOR - سترھویں اجلاس کا خصوصی امتیازی استرح یا اس کو درد ہو یا یا ان کے گن نے مجھ نہیں آیا کہ بھی تک کسی مندوب نے ضابطے کا کوئی سوال نہیں اٹھایا۔یہ امراس لحاظ سے اطمینان کا موجب تھا کیونکہ ایک تو ضابطے کے سوالوں پر بہت میں بہت وقت صرف ہو جاتا اور پروگرام میں ہزج واقع ہوتا۔دوسرے زیادہ ضابطے کے سوالوں کا ھای جان اور سہیلی کی کارکردگی پر ترام سمجھا جاسکتاہے۔پلے سالوں میں راجلاس میں صبح شام تین چار کہ اسے بھی زیادہ دفعہ اسے سوال اٹھائے جانے کامعمول ہو گیا تھا۔جیسے جیسے وقت گذرتا گیا مجھے امید ہنے لگی کہ من ہے اس سالانہ اجلاس کی کوئی ضابطے کا سوال نہ اٹھایا جائے اللہ تعال