تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 651 of 736

تحدیث نعمت — Page 651

۶۵ 1445 1945 پریذیڈنٹ کینیڈی سے ملاقات مسٹر اینڈریو کو ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ل مالیات میں سے تھے اور یوں ان سے رہے دوستانہ مراسم تھے۔یاء میں اشنگٹن می سنٹر ڈپلومیٹس کے مینار کے ڈاٹ کر تھے۔اپریل تا میں انہوں نے مجھ سے خوناش کو نور کے سینے میں ان کے ایمان میں تقریر کروں۔میں نے انکار کی تیل کی امی بھرلی۔امریکی و متعین اقوام متحدہ کی ر ے مجھے تایا گیاکہ مصر سمبل اپنی صدارت کے دوران میںاگر واشنگٹن جائے تو صدر ریاستہائے متحد سے ضرور ملاقات کرتا ہے چنانچہ واشنگٹن جانے پر مں صدر کینیڈی کی ملاقات کیلئے وائٹ ہاؤس گیا۔صدر کینیڈی بڑے با اخلاق تھے بڑے پاک اور بے تکلفی سے پیش آئے ملاقات کسی خاص موضوع پر گفتگو کے لئے نہیں تھی مختلف امور پر گفتگو رہی۔ان دنوں ہندوستان اور چین کی جھڑپ ہوئی تھی۔اس سلسلے میں فرمایا ہم ایک لحاظ سے تو چھین کے منون ہیں کہ انہوں نے مٹر کرشنا مین سے ہماری خاصی ردائی میں نے کہا مٹر پیٹینٹ اسٹرکر نامین کے ساتھ یا الان کرتا اور کہا ہے کہ ایران ہوکر کام یہ کیوں ہے ہو؟ میں نے کہا اس سے کہ مٹر کی امین کی خوری نہیں۔وہ جو کچھ کر کام کرے میں سوچ سمجھ کر اور عمدا گرتے ہیں۔پوچھا مہیں کیسے معلم ہے میں نے کہامجھے ان کےساتھ سابقہ پڑتا ہےاورمیں ان تجربے سے کہتا ہوں اب وہ میزبان ہوتے ہی واپنے مہمانوں سے نہایت تواضع سے پیش آتے ہیں۔خود تو کچھ کھاتے ہیں ساراوقت میزوں کے درمیان چکر لگاتے رہتے ہیں۔مانوں کی ضروریات کیطرف توجہ کرتے ہیں ان کے ساتھ شفق سے کام کرتے ہیں اور غیرت وغیرہ دریافت کرتے ہیں۔پر نوٹ کینیڈ نے پو چھا تو پر یہ دوسرا بھی کیوں بدل لیتے ہیں ہے میں نے کہ وہ امریکیوں کی بعض کمزوریوں کو بھانپ گئے ہیں اوراپنے ملک کی خدمت کرنے کیلئے امریکنوں کی ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔انہوں نے ذرا چونک کر اور کراتے ہوئے پوچھاور کاوشی کمزوریاں ہیں ؟ میں نے کہا ایک تویہ کہ آپ لو مخالفانہ تنقید سے خوش ہوتے ہیں۔فرمایا یہ توٹھیک نہیں کیونکہ م و محبت کے بھو کے ہیں میں نے کہا یہ امریکیوں کی دوست ہی کمزوری ہے مسٹر کرشنا مین جانتے ہیں کہ آپ محبت کے خریدار ہیں اور وہ ہر اپنی محبت کی قیمت بڑھادیتے ہیں۔اس پر بہت ہے اور بار تماس نیٹ ڈپلومیٹس کوخطاب کر رہے ہو ؟ انہیں بھی یہ ضرور بتا دیا۔صدر کینیڈی سے ملاقات میں قضیہ کشمیر کا ذکر پر ی ی ی ی ی ی ل ی م م ا را ا نرالا میں سمجھتاہوں کہ پچھلے پندرہ سا میں یا عمدہ موقع کمر کے تھنے کے فیصلے کا میں نہیں آیا جب اس وقت میں سے نہیں معلوم ہے کہ گورتر میری مین اور برطانیہ کے مسٹر نکن سینڈیز ہندوستان مشورے کیلئے جارہے ہیں۔میں نے گورنہ میری من کو تاکید کی ہے کہ وہ در مکن کوشش کریں کہ اس قضیے کا مناسب تقصفیہ ہوسکے۔میں نے کیمرہ پینڈنٹ یہ قضیہ تصفیے کی طرف اس وقت حرکت کر دیگا جب وزیرا عظم ہر و تضیعے پر آمادہ ہوں گے۔انہوں نے فرمایا ورنہ ہر مین کی میں کوشش ہوگی کہ رین کو تینے پر آمادہ کریں گورنہ پیری مین دس بارہ سال کے عرصہ میں ورنہ یمن سے سعد ابا نے کالا ہوا تھا میں نے کبھی نہیں پاکستان کے متعلق ہمدردی کے جذبات کا حال نہ پایا۔دوست رو طبا نہایت خشک مزان تا در سی ان کے متعلق بھی وہ کوئی گر خوشی