تحدیث نعمت — Page 650
40۔لیم حاصل کر رہے تھے ایک تنظیمیں انہوں نےنمایاں حصہ لیا اور اسلامی کے زمانک سرگرمیوں کی پاداش میں اک عرصہ انی قید خانوں کی ایک کوٹھریوںمیں گزار چکے تھے میرےساتھ تعارف ہوتےہی انہوں نے حد درجہ اخلاص کا اظہارکیا۔اور بہت جلد ہمارے درمیان گہرے دوستانہ مراسم قائم ہوگئے صدر بلا کے الجزائر واپس تشریف لیجانے پرانہوں نے امراری " دن کی قیادت کے کچھ اور نیویارک قیام کیا۔انگریزی بہت کم جانتے تھے انے فرائض کی یا عاما بجا آوری کی خاطراس کوشش تھے کہ انگریزی میں بول چال کی مہارت پیا کریں۔چونکہ انگریزی کمانا ہے اور میرا ایک کیا جانا تھا اسلئے انہوں نے کی کیلئے ی و یا یکی ا الا ایمانی کاکمی موقعہ ہوا د زبان نہ جانا بابائے رک کے مد و یا بعض اوقا اظہار خدا میں الفاظرہ کی بن جاتے ہیں الفاظ کا مینہ نا جائے روکے روئی اور حجاب کو رفع کرنے کا موجب بن یا ھنے کی میز پہ مجھے اپنے دائیں ہاتھ بٹھایا۔نشت ایکسم کے موے پر ساتھ ساتھ ھی بیٹھے ہی میرا بیان ہاتھانے والی ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ لیا اور میرے رخصت ہونے تک ایک لحظ کیلئے بھی ہاتھ کی گرت کو ڈھیلا نہ ہونے دیا۔دیکھنے میں دیئے تے تھے لیکن تینر فولادی محسو ہوتا تھا۔کھانا شروع ہوا توں نے انکا دایا او آزاد کرنے کی خاطراپنے ہاتھ کو منشوری ہوں نےمیرے ناتھ کو اور دور سے جڑ کا سارا وقت بنے ہوئے چہرے سےبات چیت جاری رکھی گو نگو کے بعض حصے قید خانے کی مصائب کی تشریح پر بھی حاوی تھے۔اس درجہ اخلاص ومحبت کی وضاحت کے طور پر فرما بات آج سے چند دن پہلے میری ہستی سے بھی آگاہ نہیں تھے اورمیں مدرسے میں طالب علمی کے زمانےسے تمہارا مداح اور مشتاق ہوں۔جب میں جرائد میں تمہاری ریدی کا اس پراکرتاتھا تیری مہم میںبھی یہ امکان ہیں اتنا کہ اسے ایل ایل کے ساتھ کبھی میری ملاقات ہوگی۔موقع میسر آیا ہے تیرے لئے نہایت سر کا موجب ہواہے اور محسوس کرتاہوں کہ کہیں بھی میرے ساتھ خاص ہے ں تو دائیں ہاتھ سے کھانے میں مصرف تھا گو کی بات پر توجہ سے رات اور زیادہ ان گنگ کی طرف متوجہ تھے اوربائی سے مکھی کو کھا لیتے تھے ان کے لیے کے جسم کوغذا کی کوئی ایسی صورت بھی نہیں تھی میں نے ان کے اخلاص کے سمندر کے جوش کو کم کرنے کیلے کہ محمد نہیں تین دیکھے اس تصور کے ساتھ اخلاص ہے تو میری تقریروں کے نتیجے مں تم نے اپنے ذہن میں خورد ہاتھ " نگی نالیا تھا۔ابھی ہماری پہلی ملات پر چند دن ہی گذرے میں تم اسی تصور پرقائم و تو تمہار اپنایا ہوا ہے جب میری خامیوں اور کمزوریوں ر تمہیں آگاہی ہوگی تو تصور کی جگہ حقیق سے لگی۔پھر تمہارے اخلاص می یہ خوش نہیں رہے گا۔بخلاف اس کے مجھے تو بھی دست کی معمار ساتھ ہے وہ تمہاری ان خوبیوں کی وجہ سے ہے جس کا مں نے مشاہدہ اور تجربہ کیا ہے اسے میرے اخلاص میں ثبات ہے ! وہ بہت سے اور کہاں جاتا ہوں تم میرے قابل وکیل جوتمہاری یہ دل محض وکیلانہ ہے۔اچھا تو مارے ہاں آؤ گے نا ؟ می نے کہا اب تو آپ کے صدر صاحب کا بھی فران ہے اور ہمارے وزیر خارجہ صاحبکارش بھی ہے۔امید ے ان اللہ علہ کوئی موقعہ میں آجائیگا انہوں نے بڑے تپاک سے رخصت کیا۔اور نیویارک سے روانہ ہونے سے پہلے پھر جلد آنے کی تاکید کی۔