تحدیث نعمت — Page 569
۵۶۹ اس مرض کے حصول کے لئے گوری جنرل کی مشاورتی کونسل کے پکستانی رکن کو ہدایت دی گئی ہے کہ (ا ) سوڈان کی لد سے جلد مکمل آزادی کے عمل میںلانے کی ہر مکن سعی کی جائے اور سرسرسے پاس مقصد کو پیش نظر رکھا جائے۔(۲) سوڈانی اہل الرائے اصحاب کو مناسب طریق یہ یاد و نانی جاری رہے کہ سوڈان در مصر کے اکثر منار مشترک ہیں اور دونوں کار اقدام ترکی میں سے لازم ہےکہ ان کے درمیان دوستان را به نام واوردونوں ایکدوسرے کے ساتھ بھی مفاد کے فروغ دینے کے لئے تعاون کریں (۳) مصر اور سوڈان کے درمیان رابطے کی کیا شکل ہو یہ مسلہ سوڈان اور مصر کا آپس میں طے کرنے کا ہے۔گورنر جنرل کی مشاورتی کونسل کو اس سے کوئی سرد کار نہیں۔پاکستانی نمائندے کو اس سے بالکل الگ رہنا چاہیے اور اس کے متعلق کسی قسم کی رائے کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔میں نے ان سے دریافت کیا کہ کسان کی رائے میں یہ ہدایات مناسب ہیں ؟ انہوں نے فرمایا مناسب یں میں مرض کیا اگر کسی قت آپ کویہ معلوم ہوکہ ان ہدایات کے مل نہیں ہو ر نا پ ان کی خلاف ورزی کی جاری ہے توآپ انے سفیر متعینہ کراچی کی عزت مجھے مطلع فرما دیں میں نور توبہ کروں گا اور اگر کسی اصلاح کی ضرورت ثابت ہوئی تو مناسب اصلاح کی جائے گی۔میں نے یہ بھی عرض کیا کہ کرسی مصلے پر آپس میں مشورے کی ضرورت پیش آئے تو یں قاہرہ حاضر ہونےمیں تامل نہیں کروں گا۔محمود فری صاحب میری گذارشات پر اطمینان کا اظہار فرمایا۔میاں ضیاء الدین صاحب نے اپنے فرائض کو نہایت پویش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیا۔الحمد لہر سوڈان کی مکمل آزادی بخیر خوبی حل علمی آگئی پہلے انتخاب می حزب اتحاد کو کثرت حاصل ہوئی جس کے نتیجے مں توقع تھی کہ سوڈان اور مصر کے درمیان آئینی انتخار کی کوئی صورت نکل آئے گی لیکن یہ توقع یہ نہ آئی۔اس کی ایک وجہ تو اسوقت سننے میں آئی یہ بھی تھی کہ عین انہیں ایام میں جنرل نجیب کو صدر ریاست کے منصب سے علیحدہ کر دیا گیا۔جنرل نجیب کی والدہ سوڈانی تھیں اور جنرل نجیب سوڈان میں بہت ہر دلعزیز تھے۔سوڈان والوں کو ان پر بہت اعتماد تھا لہذا ان کی علیحد گی ان پر بہت شاق ہوئی واللہ اعلم بالصواب - لیکن یہ امر باعث امتنان ہے کہ مصر اور سوڈان کے بائی تعلقات میشہ خوشگوار رہے ہیں اور یہ حقیقت مصری اور سوڈانی ارباب حل وعقد کے تعمیم اور دور بینی پر دال ہے۔تونس اور مراکش کی آزادی کے مسئلہ کو نشاء کے املی کے سالانہ اجلاس میں جو پریس میں ہوا ہم نے اقوام متحدہ میں لانے کی کوشش تونس اور مراکش کی آزادی کاملا سالی کے ایجنڈے پرانے کی کوشش کی لیکن میری تجویز اینجا کہ ملک کی کی وجہ سے مسترد ہوگئی زیادہ انسوس اسیات کا نظارہ لاطینی امریکی مالک ہی سے جو عموماً آزادی کے گن گانے کے عادی ہی بہت کم ملک نے مارا ساتھ دیا اور خو ریاستہائے متحدہ امریکہ نے نصرت خلاف رائے دی بلکہ ان کے نمائندے مسٹرا نسٹ گروس نے تمہاری بخونیہ کے خلاف تقریر کر کے بعض ممالک کے نمائندوں کو بہکا دیا۔مجھے اس سے سخت صدمہ ہوا اور میں نے ہوائی تقریر میں کہا کہ ایک طرف اقوام متحدہ کا مشاق ہم یہ یہ دواری