تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 561 of 736

تحدیث نعمت — Page 561

یران سرداروں کی طرف سے بہت سی نیود عاید ہیں۔ا ا ا ا ا ا ا ا لی مینیم و در اختیار اور جمہوریت کی ہوائی تیزی سے چلنا شروع ہوگئی ہیں۔اگر یہ بہت سے قصبے اور مشکلات درپیش ہیں اور اس را عظم کو ابھی بہت سے مراسل سے گذر ناہے لیکن افریقی اقوام اور قابل بیدار ہورہے ہی ارامی کی جاتی ہےکہ آخر افریقہ کے علاقوں میں تقی تھا کہ رسید والا معاملہ ہوکر رہے گا والله خير حانظار هو على كل شيء قدير۔سونالیہ کی آزادی | سومالیہ کا علاقہ اپنی جائے وقوع کے لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔جغرافیائی مبیت وجہ سے اس افریقہ کاسٹنگ کہتے ہیں۔یورپی طاقتوں نے تین حصوںمیں تقسیم کر کھا تھا۔اطالوی برطانوی اور فرانسیسی۔دوسری عالمی جنگ میں املی کی شکست کے نتیجے میں اطالوی سومالی لینڈ کی قسمت کا فیصلہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے سپرد ہوا۔سومالی رائے عامہ طبعا فوری آزادی کی طلب گار تھی۔حکومت کی باگ ڈور ابھی تک اطالوی نا تھوں میں تھی اور اٹلی کی شدید خواہش تھی کہ اطالی سومالی لینڈ کی نگرانی اور اس علاقے کو آزادی کیلئے تیار کرنے کی ذمہ داری اٹلی کے سپرد کی جائے۔برطانیہ نے اعلان کر دیا تھا کہ نگرانی کا نظام قائم ہونے کی صورت میں میر طانوی سومالی لینڈ کو بھی اس نظام میں منسلک کر دیا جائے گا تاکہ اطالوی اور برطانوی سومالی علاقے متحد ہو کر ایک واحد ریاست کی شکل میں آزاد ہوں اسمبلی میں بحث کے دوران ایک قابل اور مضبوط سومالی دن سومالی حقوق کے تحفظ اور حمایت کے لئے موجود تھا میں سے ملی B۔ہر قسم کی اطلاع میسر آتی رہی۔سومالی آبادی تمام تر مسلمان ہے اور ہم یہ عرب ممالک کے ساتھ ان کے گہرے دوستانہ تعلق ہیں۔عرب ملک طبعا سومالی علاقوں کی آزادی کے حامی تھے۔پاکستان بھی کلیہ آزاد کا حامی تھا۔آنا د افرین مالک یں سے مر تو آزادی کی حالت میں پیش پیش تھا۔ای سی کی ہمدرد بھی اٹلی کے ساتھ تو نہیں کی تھی۔باقی صرف ایر ادارہ جاتاتھا۔ایران سالی لینڈ کی آزادی کی جدو جہدمیں پوری طرح ساتھ دیا اور ائیریا کے قالی ماندے مسٹر ہنری کو پر پرلحاظ سے ہمارے لئے ایک مضبوط ستون ثابت ہوئے۔فجزاہ اللہ۔اٹلی نے اپنے موقف کی تائید میں اپنے ھوٹوں کا اک نام نان داوای یونانی سرپرست میں کیٹی کے روبرو پیش کی لیکن اس دن کی مالی امی کو کچھ فائدہ نہ ہنچ سکیں۔اس وفد کی تمام ترکوشش یہ ثابت کرن میں ر ہو تیری کو سول ایالات ابھی آزادی کے قابل نہیں کیں اصل سومالی وقد سے معلوم ہو گیا تھاکہ اس نام نہاد وند کے اراکین دارالحکومت موگادیشو کے بلدیہ میں ملازم ہیں اور ہر بات میں اٹلی کی تعریف کرنے اور اطالوی اقدامات کو ملانے پر مجبور ہیں۔میں نے اس اطلاع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نہج پر ان سے استفسارہ شروع کیا : - سوال :- اطالوی اقتدار کے زمانے میں حکومت نے آپ کے ملک کی ترقی اور بہبودی کے لئے کوئی اقدام کیا ؟ جواب :- بیشک ہر ممکن اقدام کیا۔سوال :۔اس عرصے میں آپ کے ملک نے کتنی ترقی کی ؟