تحدیث نعمت — Page 544
اس پر تمہارے اصرار سے نہیں تعجب بھی ہوتا تھا اور بعض رفعہ نہیں دقت بھی محسوس ہوتی تھی۔ہمارے لئے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ ایک بلند مرتبت شہرہ آفاق ہستی جس کی عالمی شہرت ایسی نیک تھی اس کے زبانی قول یا د عدے کو قبول کرنے میں تم دونوں کو استقدر تامل کیوں ہے۔لیکن یہ کیفیت دی یک نام نہ رہی۔جیسے جیسے تارا واسطہ پنڈت نہرو سے پڑتا رہا ہمارے تجربے سے تمہارے موقف کی صحت کی تصدیق ہوتی رہی۔اگر یہ امرآج تمہارے لئے کسی اطمینان کا باعث ہو سکتا ہے تو مجھے یہ ہے میں کوئی باک نہیںکہ جب میں کشن سے علیحدہ ہوا اس وقت تک ہم سب کی متفقہ رائے ہو چکی عالی ALL YOUR SUspicions of PANDIT NEHRU WERE MORE THAN FULLY JUSTIFIED ޕ نڈت نہرو کے متعلق تمہارے شکوک بالکل حق بجانب تھے ) کمشن کے اراکین کے متعلق میری رائے صحیح ہو یا غلط لکین اس میں شک نہیں کرشن نے کراچی اور دلی کے درمیان آنے جانے میں کوئی مستی نہ دکھائی اور در این اراکین سارا وقت محنت سے کام کرتے رہے۔آخر مشن نے ان پہلی قرارداد ۱۳ اگست کو تیار کریں۔حکومت ہند نے اسے قبول کر لیا کیونکہ یہ قرارداد بہت حد تک ان کے موقف کی مرید تھی لیکن پاکستان کی حکومت نے اسے قبول نہ کیا جس کی بہت سی وجوہ تھیں سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ قرارداد جنگ بندی اور فوجی انخلا تک محدود تھی اور اس میں ائے عامہ کے استواب کے متعلق کوئی متجاوزی شامل نہیں تھیں۔اس پر مشن نے اپنی سرگرمی جاری رکھی اور آخر دسمبر میں ایک دوسری قرار داد اور نیم کے تیار کی اور دونوں حکومتوں کو پیش کی۔اس سال اسمبلی کا اجلاس پیرس میں چور تا این بی پسر اما و اگایا اور میں قرارداد تیار مولی وسمہ اللہ کے آخری ہفتے میں دونوں حکومتوں نے دونوں قرار دادوں کو قبول کر لیا۔اس پرمیشن نے دونوں کو دعوت دی کہ جب اصل نزاع کے طارق فضلہ پر اتفاق ہوگیا ہے تواب جنگ جاری رکھنا ہے وحدہ نفوس اورامال ا ضیاع ہے چنانچہ مشن کی تحریک پریکم جنوری کوجگ بیوگی دیکشن کی دوسری قرار داد اگر چه آخری پیمبر ی قبول ہوئی تھی لیکن اس کی تاریخ ہم جنوری ای قرار پائی۔اس کے بعد مش موقعہ پرانین کی فتنوں کے درمیانی حدفاصل قائم کرنے میں بھی کامیاب ہو گئی۔اب تیرہ اگست کی قرارداد کے مطابق سرویس ایگریمنٹ (TRUEE AGREEMENT) یعنی فوجی انخلاء کے معاہدے کے ترتیب دینے کا مرحلہ درپیش تھیا کمشن نے کراچی میں اس کے متعلق کچھ تبادلہ خیالات کیا اورپھر تی پینچ کر ٹرین کے فوجی نمائندوں کو طلب کیا کہ وہ ۱۳ اگست کی قرار داد کے مطابق فوجی انخلاء کا منصوبہ تیار کر کے ساتھ لائیں۔تاریخ مقرہ پر جب طرفین کے نمائندے کشن کے روبرو پیش ہوئے تو پاکستانی نمائندوں نے تو حسب ہدایت کمشن اپنا منصوبہ کمشن کی خدمت یں پیش کردیا لیکن ہندوستانی نمائندوں نے کہاکہ انکا منصوبہ تیار ہے لیکن بھی کمانڈر انچیف اور وزیراعظم سے ملا اخطہ نہیں کر پائے۔۱۹۴۹