تحدیث نعمت — Page 505
۵۰۵ مجھے تو ہدایات لیگ کی طرف سے دکھائیں مجھے انکی پابندی کرنی ہوگی۔میاں صاحب نے میری رائے دریافت کی۔میں نے مختص طور پر اپنا اوراپنے رفقائے کار کا رحجان بیان کر دیا۔میاں صاحب نے فرمایا تو میں ہی ٹھیک ہے اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔یم کے اقوام متی کی قیاس آرائیاں کی گئی میں بین کی نیند کی حقیقت پر نہیں کہاگیا ہے کہ چونکہ نواب صاحب ممدوٹ کی خاندانی جاگیر کا بیشتر حصہ تحصیلوارہ بٹوارے میں پاکستان میں شامل کئے جانے کی امید کی جاسکتی تھی اس لئے انہوں نے تحصیلوانہ بٹوارے پر زور دیا۔یہ ایک بالکل بے بنیاد اتہام ہے۔میری دانست میں نواب صاحب ان تقابل سے بالکل نا واقف تھے اور اگر واقف تھے بھی تویہ واقعہ ہے کہ اس بارے میں انکی طرف سے مجھے ایک لفظ بھی نہیں کیا گیا نہ میں نے ان سے دریافت کیا نہ انہوں نے خود کچھ صراحتہ یا ارشاد فرمایا۔حقیقت یہ ہے کہ ان دنوں صوبے کے حالات میں تیزی کے ساتھ ابتری پیدا ہورہی تھی طالع میں انتشار در سراسیمگی تھی۔متعلقہ کارکنان صوبہ کے لے کسی اور پہنچیں؟ سے غور کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ان اہم امور کے متعلق پہلے سے نہ کوئی تیاری کی گئی تھی نہ متعلقہ اصحاب نے اس پر خونر کیا تھا لہذا فیصلہ کرنا آسان نہ تھا۔بعد میں پیدا ہونے والے حالات ابھی پردہ غیب میں تھے اور اس وقت ان کے متلی می انداز مکن نہ تھا۔آج جو ابوالحکم ہونے کے مدعی ہیں اس وقت نہ معلوم کیوں خاموش اور دم بخود تھے۔میں اپنے رفقائے کار کے ساتھ تادیر مشورے اور تیاری میں مصروف رہا۔ان کے تشریف لے جانے کے بعد بھی کھائے اور نماز سے فارغ ہو کر عداد شمار کی پڑتال اور سر کار کا اعلان کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے اور تحریری بیان کیلئے نوٹ تیار کرنے میں بہت سا وقت صرف ہوا۔غرض منگل کا دن بڑی پریشانی میں کٹے لیکن سونے کے وقت تک میری طبیعت میں کسی تندر سکون پیا ہو گا تاکہ اللہ تعالی نے محض اپنے فضل وکرم سے بنیادی مواد بھی میسر فرما دیا ہے اور مخلص رفقاء ارای تیم ملی املی کی تاریکی میں کچھ بال بھی کر دیا ہے جو کیم کو میں بلا تیار ہوکر ناشتے سے فارغ ہوگیا سات بھی پچکے تھے لیکن نواب صاحب کے موعود زرد نویس ابھی تشریف نہیں لائے تھے ان کے انتظار میں کا غذات کی فریاد دیکھ بھال اور تیاری میں صرف یہ تھی کہ آٹھ بج گئے۔میں پھر پریشن ہوا۔خواجہ عبدالرحیم صاحب کی خدمت میں یوں پر گزارش کی انہوں نے فرمایا یں ابھی انتظام کرتا ہوں۔چند منٹ کے بعد انہوں نے اطلاع دی کہ ان کے دونوں سٹینو گرافر انہوں معه ضروری سامان نو بجے تک میرے پاس پہنچے جائیں گے۔چنانچہ یہ دونوں صاحبان نو بجے سے پہلے ہی تشریف لے آئے اور میں نے تحریری بیان کا مسودہ لکھوانا شروع کر دیا۔اتنے میں میرے رفقاء کار بھی تشریف لے آئے اور میرے ساتھ شامل ہوگئے۔میں لکھواتا جاتا اور وہ جہاں ضرورت سمجھتے مشورہ دیتے یا اصلاح کرتے۔دونوں زرود نویں اپنے فن کے اہر تھے اور بہت توجہ ، محنت اور اخلاص کے ساتھ کام کرتے رہے جس سے ہمارے لئے بہت سہولت ہوگئی، برام الله احسن الجندا۔نواب صاحب کے موعود زود نویس بحث کے آخر تک ہمیں میسر نہ آئے نہ ہی نواب صاحب کی طرف سے کوئی "+