تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 34 of 736

تحدیث نعمت — Page 34

ور جہازی سفر پر بھی پابندیاں عاید ہوگئیں۔اگر ہم ریلیز سے پورٹ سعید اور پھر وہاں سے جاتے تک کے سفر کے انتظامات قائم بھی رہ سکتے تو بھی لندن سے مار سلیر نک بحری سفر کے لئے چھ سات دن مزید دور کا یہ ہوتے اور میں بر وقت تجاہ نہ پہنچ سکتا۔اسلئے ناچار مجھے یہ ارادہ ترک کرنا پڑا اور ٹکٹ واپس کردیئے۔سرا با شفقت خاتون مستر فائزن شرع محمدی کے علاوہ بار باقی مضامین کے لیکچرا کے چھ سے شرع ہوتے تھے۔میں جانے کے بعدہ جگر ۲۰ منٹ پر گھر سے روانہ ہوتا تھا۔اور جس کالج میں پہنچنا ہو تاوقت سے کچھ پلے وہاں پہنچ جاتا تھا۔واپسی کبھی آٹھ بجے سے پہلے ہوئی کبھی نوبجے کے بعد کوئی شام در میان میں خالی بھی ہوتی جب کالج میں حاضری نہ ہوتی جس دن مجھے کا بج جانا ہو تا اس دن میری والبسی تک شام کا کھتا ختم ہو چکا ہوتا۔لیکن مسنر نائزن کمال شفقت سے میرے لئے کھانا گرم رکھیں اور میرے گھر پہنے پر مجے کھانا دے دیتیں۔اور جب تک میں کھانا ختم کرتا کھانے کے کمرے میں میرے ساتھ بیٹھیں عموما تو کچھ نہ کچھ کام کر رہی ہو نہیں سوئی دھاگے وغیرہ کا بکس سامنے ہوتا، عینک چڑھائے ہوئیں۔کام بھی کرتی جائیں اور میرے ساتھ باتیں بھی جاری رہیں مجھے کسی امر کے متعلق کچھ معلوم کرنا ہوتا تو میں ان سے پوچھ لیتا۔انہیں نخود احساس ہوتا کہ مجھے کچھ بتانا چاہیے یا کسی ام کے متعلق آگاہ کرنا چاہیئے تو تبادر ہیں۔حالات حاضرہ کے متعلق کچھ تذکرہ ہو جاتا میرے وطن کے اور گھر کے حالات دریافت کرتیں، اسلامی معاشرت یا تعلیم کا ذکرہ بچھڑ جاتا۔عرض یہ آدھ پون گھنٹہ میرے لئے بڑی دلچسپی کا وقت ہوتا۔میری تربیت میں ان کا بہت بڑا حصہ تھا۔شریف طبقے کی خاتون تھیں، خیالات سمجھے ہوئے تھے ، ان کا اپنا نمونہ ایک دیانتدار منت کرنے والی خود دار خاتون کا تھا جنہیں میں احترام کی گو سے دیکھتا تھا۔میں ایک اجینی نو وار د نوجوان تھا جو ملک کے سم و رواج سے ناواقف تھا۔ان کا ہر مشورہ میرے لئے نہایت مفید ثابت ہوا۔پردیس میں ان کی ہمدردی میرے لئے لیکن کا موجب تھی۔میرے ساتھ ان کی غیر معمولی شفقت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کا ایک ہی بیٹا تھا جو مر مں مجھ سے ایک مہینہ چھوٹا تھا۔وہ میرے لندن پہنچنے سے تھوڑا عرصہ پہلے روڈ کی یا چلا گیا تھا۔ماں کو اکلوتے بچے کی جدائی کا طبعاً احساس تھا۔ان کی مامتانے یہ بھی محسوس کر لیا ہو گا کہ مجھے اپنے وطن اپنے والدین سے جدائی کا شدید احساس ہے۔اس حالت نے ہمارے درمیان ایک ہمدردی کا رشتہ قائم کر دیا۔یہ بھی اللہ تعالے کا خاص فضل تھا۔تیسرے چوتھے مہینے کبھی انہیں اپنے بیٹے کا خط آتا تھا۔آہستہ آہستہ یہ وقفہ اور لمبا ہوتا چلا گیا۔جنگ شروع ہونے کے بعد تو بند ہی ہو گیا بہ کے موسم سرما میں مسر فائزون اپنی بڑی ہمشیرہ کو منے کیلئے امیر بن گئیں وہاں سے واپسی کے سفرمیں انہیں سردی لگ گئی جو لندن پہنچتے پہنچے نمونیہ کی شکل اختیار کر گئی اور اس سے ان کی موت واقع ہوئی میرے لندن