تحدیث نعمت — Page 500
۔۔یڈ کلف کا نفر بطور چیز میں حد بندی کمشنر میں بھی لندن میں کیا تھا کہ سرسیل ریڈ کلف کو حد بندی کمشنر کا پچیرمین مقرر کئے جانے کا اعلان ہو گیا۔اس خبر سے مجھے بڑی تشویش ہوئی۔سر سیری ایک بریسٹ تھے جو ابھی پریکٹس کر رہے تھے۔وہ پارلیمنٹ کے رکن بھی تھے۔ان پر کئی طرح سے اثر ڈالے جانے کا امکان تھا۔اس سے پہلے ان کا نام تقسیم ملک کے سلسلہ میں قائم ہونے والے شائی ٹریبیونل کی صدارت کے لئے بھی حکومت برطانیہ کی طرف سے توبہ کیا گیاتھا لیکن اس اہم اور بو و شنل قسم کے منصب کے لئے سر پر کی سینس چیف نئیں فیڈرل کورٹ کا تقری زیادہ مناسب سمجھا گیا۔یہ ام سلمہ ہے کہ حد بندی کی اہم ذمہ داری کو پہلے اقوام متحدہ کے پر کئے جانے کا مشا تھا۔قائد اعظم اس تجویز کے حق میں تھے لیکن پنڈت جواہر لا کو یہ منظور نہ ہو الناس تجویز کو ترک کر نا پڑا۔میرے مشورے کے مطابق قائد اعظم نے انگلستان کی پریوی کونسل کے تین بجے صاحبان کو کو الناس کی تین حد بندی کمشن میں بطور اراکین شامل کئے جانے کی تجویہ بھی کی۔لیکن لار مونٹ بیٹن نے اس بودے عذر پر اس تجویز کو ٹال دیا کہ بریلوی کونسل کے بیج صاحبان عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے ہندوستان کی گرمی برداشت نہ کر سکیں گے۔جب حد بندی کمیشن کے صدر کے تقریر یہ اتفاق رائے نہ ہوسکا تو صدر کی نامزدگی کو برطانوی حکمت ر چھوڑ دیا گیا اور سٹرائیل کی حکومت نے پر سرسرل ریڈ کلف کونامزد کر دیا اور منٹ بیٹی نے قائد اعظم کے یر نامزدگی منظور کرلینے پر آمد کر لیا۔جن حالا میں ملک کی تقسیم ہو رہی تھی اور جو وسیع اور مویشی اختیار کمشن کے چیر مین کو تفویض ہونے تھے ان کو مد نظر رکھتے ہوئے سرائیکی کی وزارت کے لئے ریڈ کلف کو اس صعب کے لئے نامزد کرنا نہایت غیر مناسب تھا۔بالخصوص جب اس سے پہلے ایک ویسے ہی اہم اور جوڈیشیل منصب کے لئے ان کا نام تجویز ہو کران کا اس پر تقریر مناسب نہیں سمجھا گیا تھا۔پنجاب حد بندی کمشن کے رو برو حاضری لندن میں کم سے کم عرصہ مرنے کے بعدمیں کراچی ہوتا ہوا اپنے اندازے سے ایک دن پہلے لاہور پہنچ گیا نواب صاحب ممدوٹ اور بہت سے اجاب سٹین پر آئے ہوئے تھے۔نواب صاحب سے معلوم ہوا کہ ریڈ کلف لاہور پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے دوسری صبح گیارہ بجے فریقین کے وکلاء کو طلب فرمایا ہے نواب صاحب نے فرمایا کل ڈھائی کے بعد دود پر مرے مکان پر تمہاری ملاقات ہمارے وکلاء کے ساتھ ہو گی۔اس سے مجھے کچھ اطمینان ہوا کہ گوقت تھوڑاہے لیکن وکلاء نے کہیں کی تیاری کی ہوئی ہوگی۔ان کے ساتھ مشورے کے بعد اللہ تعالی کے فضل اس کی عطا کردہ توفیق سے حج کے شروع ہونے تک ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا نے فرمایا تمہارا یا تومیرے ال ہی ہوگا۔میں نے عرض کی میں اپنے دیرینہ کرم فرما رسید راتب علی ان کے ہاں ٹھہرنے کا نظام کر چکا ہوں۔ان کا مکان آپ کے دو لشکدے سے قریب ہی ہے۔جہاں تک مجھے یا پڑتا ہے پر سوار کی شام تھی دوسرے دن منگل کی صبح گیارہ کے کم سرسیل ریڈ کلف کی خدمت میں حاضر ہوئے۔کمشن کے اراکین جیسی دین محمد صاحب ، جسٹس محمد میر صاحب ، جسٹس میروند