تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 449 of 736

تحدیث نعمت — Page 449

تھا۔کانفرنس اور اس کے متعلق امور ہی تمام توجہ کا مرکز تھے۔امریکی وند کے جیب تھے تو کولمبیا یونیورسٹی میں انٹرنیشنل لاء کے پروفیسر تھے۔بدیں کچھ عرصہ کیلئے ریاستہائے متحدہ کے اسٹنٹ سیکر میری آن سٹیٹ لت بھی رہے۔مجھے کچھ عرصہ ان کے ساتھ کو لمبیا یو نیورسٹی میں کام کرنے کا اتفاق بھی ہوا ہے۔اب وہ بین الاقوامی عدات کے بھی ہیں۔برطانوی و قدیمی لارڈ پیلی بھی شریک تھے۔ہندوستانی وندی میں ہمارے ساتھ سراما سوامی بدلیا بھی شال ہو گئے تھے۔کانفرنس کا عرصہ بہت پیچی میں گذرا۔ذاتی طور پرمیری معلومات میں بہت مفید اضافہ ہوالیکن بین الاقوامی نقطہ نگاہ سے کانفرنس کے مذاکرات نفتی خیز ثابت نہ ہوئے۔انفرنس کے اتمام پر یکم شاہنواز کے لئے کیوں کا پرگرام تو کیا یا تعلیم کی تکمیل کیلئے انہیں کنیڈا استہائے متحدہ کے مختلف مقامات کو جاتا تھا۔لارڈ میلی فیکس (سابق تار ڈارون وائسرائے ہند ) واشنگٹن برطانوی سفر تھے۔مجھے ان کا پیغام ملاکہ وائسرائے ہند چاہتے ہیں کہ تم انگلستان ہوتے ہوئے ہندوستان واپس جاؤ انہوں نے فرمایا اگرتم دو چار دن کیلئے واشنگٹن آجاؤ توہم نہیں سفر کے انتظام کی تفاصیل بتادیں گے۔ساتھ ہی مجھے ادل آن استیون گوری منزل کنیڈا کی طرف سے دعوت آئی کہ میں آٹو میں ان کے ہاں ٹھہروں۔ہمارے ٹریڈ کمسٹر جو ٹورنٹو میں مقیم تھے مصر ھے کہ میں ٹورنٹو بھی ضرور جاؤں۔چنانچہ مون تو مسبلان سے میں اٹورا گیا اور گورنر صاحب کے ہاں مہمان ہوا اصول آن انتقلون شاه مبارزی ششم کے ماموں تھے اور انکی بیگم پرایس ایس کو نٹس ایتھلون ایک صاحب ذوق نیز هم خانون تھیں۔ان کے ہاں میرا قیام بڑا خوشگوار رہا۔ایک شام وہ ہمیں برفانی تفریحی کرتب دکھانے کیلئے اپنے ساتھ لے گئے۔میرے مئے یہ ایک بالک نیا تجربہ تھا اور میں اس سے بہت محظوظ ہوا۔سرمائی میں وقف ان دنوں کنیڈا کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔انہوں نے مجھے سپریم کورٹ کے اجلاس میں شریک ہونے کی دعوت دی جسے میں نے بڑی خوشی سے قبول کیا۔میں لیگوس میں نائیجیریا کی سپریم کورٹ کے اجلاس میں اور عقرہ میں مغربی افریقہ کی عدالت اپیل کے اجلاس میں شریک ہو چکا تھا اور بعد میں اونٹاریو کی سپریم کورٹ کے اجلاس میں بھی شریک ہوا۔ریاستہائے متحدہ کے چیف جسٹس کی طرف سے دعوت آئی میھتی کہ جب تم واشنگٹن ہو تو تمہارے اجلاس میں شریک ہوتا لیکن مرے واشنگٹن پہنچے تک سپریم کورٹ کا اجلاس کریسمس کی تعطیل کی وجہ سے ملتوی ہوچکا تھا۔کینیڈا کی سپریم کورٹ کے اجلاس میں میں امریہ بحث ہو رہی تھی وہ میرے لئے بہت دلچسپی کا موجب ا کیونکہ بالکل یا مسلہ ہماری فیڈرل کورٹ میں بھی زیر بیت آنیوالا تھا۔آٹوڈا سے ٹورنٹو گئے۔جہاں بیمار پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کی طرف سے مجھے شام کے کھانے کی دعوت بگی کینیڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشل اینہ کی طرف سے دو ر کے کھانے کی دعوت دیگی۔دونوں تقریروں میں تقریر بھی لازم تھی۔ٹورنٹو میں نیو یارک کے بعض مسلم احباب کی طر سے نارملا کہ خوراک پہنچنے پر معیدالضحی کی نمانی بڑھانا۔نیو یارک پہنچ کر ان کے ارشاد کی تکمیل کی۔جو مقام انہوں نے نماز کیئے مقرر کیا تھاوہ والد ارن ہوٹل کے قریب