تحدیث نعمت — Page 434
سم ۳ مهم ان کے وقار کی مضبوطی کا باعث بھی۔کونسل میں شامل ہونے کے چند ماہ بعد راکبر عبدی کا انتقال ہوگیا لیکن اس عرصے میں وہ اپنے فالفن دانش مندی اور تجمرات کے ساتھ ادا کرتے رہے۔بنگال ناگپور ریلوے کے حصول کمی تعلق نول ی یہ کشمکش ہوئی تھی لیکن آخر راکبرحیدری کی پر زور تائید کے تیے میں فیصلہ ہندوستانی اراکین کونسل کی مرضی کے مطابق ہو گیا تھا۔۔۔ور از چین میں بطور ایجنٹ مجری تقریر فروری کی جائے وارے اور جیل کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس میں یہ بھی طے پایا کہ چین اور ہندوستان کے درمیان براہ راست تعلق قائم کیا جائے ہندستان کی حکومت چونکہ خود مختار نہیں تھی اسے چین میں ہندوستان کا نمائندہ پیر نہیں کہلاسکتا تھا۔طے پایا کرتیں رینگن یں ہندوستان کا نمائندہ ایجنٹ جنرل کہلاتا ہے و عمل اس کا نصب سفر کا ہی ہے اس طرح چین میں بھی ہندوستانی نمائندہ ایجنٹ جنرل کہلائے گا اگر چہ اسکا در بہ سفر کاہی ہوگا۔چین اور جاپان کی باہمی جنگ کے نتیجے میں چین کے شرق اور وسطی علاقوں پہ جاپان کا قبضہ ہو چکا تھا۔چین کی حکومت پیکنگ چھوڑنے پر مجبور ہوئی تو یکے بعد دیگرے دار الحکوت ری شہروں میں منتقل ہوتاگی اور آخر جنگ کنگ میں آگیا۔جنگ کنگ سیچوان کے صوبے میں دریائے نیکی کیانگ کےکند واقعہ ہے۔اس مقام پر دریائے جوائن نیسی کیانگ میں اگرگرتا ہے۔جنگ کنگ ان دونوں دریاؤں کے مقام تال یران کے درمیان گھرا ہوا ہے۔جس کے نتیجے مں اسکی آ و جو بہت مرطوب ہے اور گرمی سردی دونوں میں ناخوشگوار اور تکلیف دہ ہے نیکدار اور شاہ کی گرمیوں میں جاپانی ہوا بازوں نے پینگ کنگ پر متواترہ حملے کر کے جان ومال کا بہت نقصان کیا تھا۔سردیوں میں ہوائی حملے رک جاتے تھے کیونکہ شہر کہ اور دھند کے پردے میں چھپا رہتا ہے۔اپریل کے شروع میں وائسراے نے مجھے خط لکھا جس میں جنرل چیانگ کانی شیک کے ساتھ جو فیصلہ ہوا اس کا ذکر کر کے خواہش کی ہ میں چھ ماہ کیلئے ہندوستان کے ایجنٹ جنرل کی حیثیت میں جنگ کنگ جانا قبول کرلیں۔یہ خطبہت مفصل تھا۔جنگ کن کو بے آرامی اور خطے کا مقام بنایا گیا تھا۔کھاتھا تم ہو اور پی کو ساتھ نہیں ہے اسکوگے۔ہمارا مشاہرہ بطور من فیڈرل کورٹ برطانیہ کے سفر متعینہ چنگ کنگ کے مشاہرے اور الاولنس سے زیادہ ہے۔اس لئے تمہیں مالی لحاظ سے شاردہ رہیگا۔کیونکہ ھی کے مشاہرہ پر زائد کوئی الاؤنس نہیں ملے گا۔لیکن میری خواہش ہے جنرل چیانگ کائی شیک اور ان کے رفقاء یہ محسوس کریں کہ ہندوستان کا نمائیندہ چوٹی کا آدمی ہے۔اور مجھے کسی اور کی نسبت یہ اطمینان نہیں کہ اس مہم کو ایسی قابلیت اور ایسے وقار کے ساتھ سر انجام دے سکے جیسے تم دے سکوگے اسلئے میںامید کرتا ہے که با وجود ان مشکلات کے جو میں نے بیان کی ہیں تم یہ فرض اپنے ذمے لینے پر رضامند ہو جاؤ گے۔اس خط نے مجھے بڑی الجھن میں ڈال دیا۔ایک طرف مجھے یہ اس تھا کہ دائرے نے تمام مشکلات کو جانتے ہوئے مجھے یہ دعوت دی ہے جس سے ظاہر ہے انہیں مے پر ہاتا ہے کہ یں ان کی بات کر ر نہیں کروں گا۔دوسری طر کی یونی کا کوئی پیل بھی ایسا نہیں تا نوسری