تحدیث نعمت — Page 428
۴۲۸ ہوش سے کہا آج آپ نے تبلیغ کاستی بو را ادا کر دیا۔حکومت کے ملٹی کے محکمے نے میری خواہش یا اشارے کے بغیر مری تقریر کے اردو ترجمے کو ایک لاکھ کی تدا میں ھوا کر نہ کیا اور اسطرح ان یرقان کی کی تعلیم کے خاصے کی وسیع اشاعت ہوگئی اناللہ تقریر کے بعد سر ستا مورتی تو اسمبلی می کانگریس پارٹی کے نائب لیڈر تھے میرے پاس آئے اور دریافت کیا کیا مسٹر سٹر یل کی طرف سے ملک کی آزادی کے سلسے میں کوئی ہدایات موصول ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں منے منقار واضح الفاظ میں حکومت کی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے؟میں نے کہا ز یر اعظم کی طرف سے کو یہ بات تو وصول نہیں ہوئیں۔لیکن جس رفتار سے برطانیہ کا اقتصادی خون بہ رہا ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جنگ کے بجا۔برطانیہ کے بانوں میں اسی قوت باقی نہیں رہ جائیگی کر وہ برا ہندوستان پر اپنا قبضہ جمائے رکھے۔فی الحال آپ کی کافی سمجھیں کہ میں نے قائد ایوان کی حیثیت سے حکومت کی پالیسی کا صاف لفظوں میں اعلان کر دیا ہے۔اور اس سے جو فائدہ سپاہی اٹھائیں۔یرے کام کا بوجہ دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔جن کی وجہ سے دار لیے اور تمام اراکین کونسل کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔لیکن سپلائی کی وزارت میں تو ہر روز وسعت ہوتی جارہی تھی اور یہ حکم ایک درید کی پوری توجہ اور پورا وقت چاہتا تھا۔پھر اس کے ساتھ ہی وزارت قانون کا کام اسمبلی کی قیادت اور حال ہے کو آئینی امور پر مشورہ دینا سب مل کر میرے لئے بار گراں بن گئے تھے۔ذیا بیطیس کے مرض کا لاحق ہونا اسماء کے پہلے تین چار مہینوں میں میری توجہ اور میرے اوقات پر ) استفادہ بوجھ ہے نا کہ اپریل میںمجھے ذیا بطیس کی شکایت شروع ہوگئی اور ڈاکٹر مانے انسولین کا ملکہ تجویز کیا شروع ہون میں خان بہادر ڈاکٹر عبدالحمید بٹ پنجاب کے ڈائر کٹر صحت شملہ تشریف لائے۔ان کا قیام میرے ہاں تھا۔یہ معلوم ہونے پر کہ مجھے ذیا بطیس کا عار منہ لاحق ہو گیا ہے انہوں نے اصرار کیا کہ مجھے تفصیلی معائنے اور مشورے کیلئے لاہور کے ڈاکٹرو شوانا تھ صاحب کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے۔میں تو شاید ستی کرتا لکین انہوں نے متواتر اصرار سے مجھے مجبور کر دیا۔چنانچہ میں تھے توں کی سہ پہر کو شملے سے روانہ ہو کر ر کی صبح کو اہور پہنچا اور ڈاکٹر وشوانا تخص صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ڈاکٹر وشوانا تھ صاحب لاہور سے ڈاکٹر صاحب نے ، ، ۸ اور ۹ ر بون کو بڑی توسعه ، محنت او وقفت مشورہ اور ان کا تجویز کردہ علاج سے میرا معائنہ کیا اور ور کو معائنے کے مکمل ہونے پر بڑی وضاحت سے مجھے سمجھایا کہ اس مرض کی کیا نومیت ہے اور مستند را ختیاط اور پر چیز کی ضرورت ہے۔علاج کا کیا طریق ہے۔اور کستوری پابندی لازم ہے۔آخر میں فرمایا ا ایک بات اور باقی ہے لیکن وہ سے اہم ہے اور وہ یہ ہے * *