تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 25 of 736

تحدیث نعمت — Page 25

نے طول و عرض دو لونی سمتوں میں حرکت شروع کر دی۔چند منٹ تو ہم نے اسے قابل توجہ نہ سمجھا اور اس انتظار میں رہے کہ بمبئی کا منظر نظروں سے اوجھل ہو تو کھانے کے کمرے میں جاکر دوپہر کا کھانا کھائیں لیکن جلد ہی اس حرکت سے سرچکہ پانے لگا اور طبیعت میں امتلا شروع ہوا۔جب کھانے کی گھنٹی بھی توطبیعت کھانے کی طرف با لکل راغب نہ تھی۔مجھے کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کس بات کا اثر ہے۔میں نے مرض البحر کا نام تک نہ سنا تھا لیکن جلد ہی معلوم ہو گی کہ یہ نہایت ہی تکلیف دہ کیفیت ہے۔تفاصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں متواتر چارون نہایت کرب میں گذرتے ایک لحظہ کیلئے بھی سکون نصیب بنے ہوا چلنے پھرنے یا اٹھ کر میٹھنے کی ہمت نہ پڑتی تھی کھانے پینے کے تصور ہی سے وحشت ہوئی تھی سموکنگ سالون میں پڑے ہوئے ایک ایک منٹ گزارنا مشکل تھا۔اس تمام عرصے میں ایک بادہ بھی اٹھ کراپنے کمرے میں جانے کی ہمت نہ پڑی کہ وہاں پہنچ کر بستر پر لیٹ ہی جائیں میں عباس میں جہاز پر آئے تھے اسی میں یہ چار دن کسے کھائے گذرے۔میں انگریزی لباس کا عادی بھی نہ تھا۔اڑھائی اپنی پھوڑا سخت (ہارڈ) کا لیپینے تھا جو گلے کا طوق بن رہا تھا۔پیاس کی شدت ہر لحظہ بے قرار رکھتی تھی اور کچھ پینے کی جرات اختیار سے باہر معلوم ہوتی تھی۔خدا خدا کر کے دن گذرنہ تا تو رات کے تصور سے وحشت ہوتی مولوی محمد علی صاحب کی حالت مجھ سے بھی بدتہ تھی۔ایک دو بار انہوں نے کہا کہ عدن سے واپس چلے جائیں گے میں نے کہا یہی مصیبت واپسی کے سفر میں بھی برداشت کرنا ہوگی۔ابھی عدن پہنچنے میں ڈیڑھ دن باقی تھا کہ طبیعت سنبھلنا شروع ہوئی جیسے جیسے سمندر کے تلاطم میں تخفیف ہوتی گئی بہانہ کی حرکت کم ہوتی گئی۔اوربیت اعتدال پر آئی گئی۔تین چار گھنٹوں کے عرصے میں مرض البحر کے سب آثار رفع ہو کر طبیعت ضمان ہوگئی اور بہانہ کی زندگی بہت خوشگوار معلوم ہونے لگی۔پوریٹ سعید سے لیکر ٹری السیٹ تک کا سفر بہت پر لطف رہا۔ٹری الیٹ اس زمانہ میں مملکت آسٹریا میں شامل تھا۔بہانہ بعد دوپہر ٹری السیٹ پہنچا۔شہر کا اکثر حصہ۔بلندی پر واقع ہے۔بندر گاہ سے شہر کا نظارہ بہت خوشنما ہے۔یورپ میں ریل کا پہلا سفر - ریل کا اسٹیشن بندر گاہ کے قریب ہی تھا۔جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو میونخ جانے والی گاڑی چھوٹنے کا وقت قریب تھا۔مولوی محمد علی صاحب ، شیخ محمد سعید صاحب اور میں دورگر درجے کے ایک ہی خانے میں سوار ہو گئے۔چونکہ مولوی محمد علی صاحب ہم تینوں میں سے ہوشیار تمرین تھے اسلئے ہم دونوں نے خاموشی سے ان کی قیادت کو تسلیم کر لیا۔اور لندن پہنچنے تک ان کی ہدایات پر طلا چون وچھڑ عمل پیرا رہ ہے۔اس جذبہ اطاعت کا پہلا اجرہ تو ہمیں یہ ملا کہ اس رات ہمیں فاقہ کر نا پڑا ، مولوی صاحب نے فرمایا کہ ہمیں یورپ کی ریلوں میں سفر کا تجربہ نہیں والد علم ان پر کھانے کا کیا انتظام ہوتا ہے۔پھر حرام و ہلال کی تمیز بھی بھی پختہ طور پر معلوم نہیں بہتر ہے آج یونہی گزارا کر لیا جائے۔سو ایسا ہی کیا گیا۔جہت تک